کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جمعہ کے دن جب سرکاری خطوط پڑھے جارہے ہوں تو اس وقت گفتگو جائز ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 5389
٥٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس أن يقرأ ويذكر اللَّه إذا قرأوا الصحف يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب سرکاری خطوط پڑھے جارہے ہوں تو اس وقت تلاوت اور ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5389
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5389، ترقيم محمد عوامة 5326)
حدیث نمبر: 5390
٥٣٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن فراس عن عامر قال: لا بأس بالكلام والصحف تقرأ يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب سرکاری خطوط پڑھے جارہے ہوں تو اس وقت تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5390، ترقيم محمد عوامة 5327)
حدیث نمبر: 5391
٥٣٩١ - حدثنا ابن علية عن ليث أن أبا بردة كان يتكلم في الجمعة والصحف تقرأ وكان الشعبي لا يرى به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ جمعہ کے دن سرکاری خطوط پڑھے جانے کے دوران گفتگو کیا کرتے تھے اور حضرت شعبی بھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5391، ترقيم محمد عوامة 5328)
حدیث نمبر: 5392
٥٣٩٢ - [حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد اللَّه عن محمد بن علي قال: لا بأس بالكلام إذا قرئت الصحف يوم الجمعة حتى يأخذ الإمام في الموعظة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب سرکاری خطوط پڑھے جارہے ہوں تو اس وقت گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں، ا لبتہ امام جب موعظت میں مصروف ہوجائے تو اس وقت بات نہیں کی جاسکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5392
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5392، ترقيم محمد عوامة 5329)
حدیث نمبر: 5393
٥٣٩٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر عن عمر بن عبد العزيز أنه منع الصحف أن تقرأ يوم الجمعة حتى يفرغ من الخطبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ سے فارغ ہونے سے پہلے صحیفے پڑھے جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5393
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5393، ترقيم محمد عوامة 5330)
حدیث نمبر: 5394
٥٣٩٤ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن أبي حيان عن حماد قال: قلت لإبراهيم: إن الكتب تجيء من قبل قتيبة فيها الباطل والكذب فإذا أردت أكلم صاحبي أو أنصت قال: لا بل أنصت يعني في الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ جمعہ کی نماز میں قتیبہ کی طرف سے مختلف خطوط آتے ہیں جن میں سچ بھی ہوتا ہے اور جھوٹ بھی۔ جب وہ خطوط پڑھے جارہے ہوں اور میں اپنے ساتھی سے بات کرنا چاہوں تو بات کرلوں یا خاموش رہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ خاموش رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5394، ترقيم محمد عوامة 5331)
حدیث نمبر: 5395
٥٣٩٥ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: لقيني حماد بن أبي سليمان والمؤذنون يؤذنون يوم الجمعة وقد خرج الإمام فكلمني فلم أكلمه ثم اجتمعنا في جمعة أخرى فكلمني والصحف تقرأ فجعل يكلمني ولا أكلمه فقال: يا ابن أخي إنما (١) كان السكوت قبل اليوم إذا وعظوا بكتاب اللَّه وقالوا فيه، فنسكت (٢) لصحفهم هذه؟ قال ابن (عون) (٣): فذكرته لإبراهيم فقال إبراهيم: إن الشيطان يأتي أحدهم (الهمَّ) (٤) أو نفسه، إنما كان السكوت قبل (إذا) (٥) وعظوا بكتاب اللَّه وقالوا فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ جب مؤذن جمعہ کے لئے اذان دے رہے تھے اور امام نماز کے لئے نکل چکا تھا تو میری حضرت حماد بن ابی سلیمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے بات کی لیکن میں نے ان سے کوئی بات نہ کی۔ پھر اگلے جمعہ کو ہم دوبارہ ملے تو جب خطوط پڑھے جارہے تھے اس وقت انہوں نے مجھ سے بات کی، وہ مجھ سے بات کرتے رہے لیکن میں خاموش رہا۔ اس پر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے ! اس دن خاموشی اس وقت لازم ہوتی ہے جب ائمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے وعظ کریں۔ ہم ان خطوط کے لئے کیوں خاموش رہیں ؟ ! حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اسے یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ جمعہ کے دن خاموشی صرف اسی وقت ہے جب ائمہ کتاب سے وعظ کررہے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5395، ترقيم محمد عوامة 5332)
حدیث نمبر: 5396
٥٣٩٦ - حدثنا وكيع عن (الربيع) (١) عن الحسن قال: كان يكره الكلام والصحف تقرأ. وقال الحسن: كانت الصحف تقرأ قبل الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جس وقت سرکاری خطوط پڑھے جارہے ہوں اس وقت بات کرنا مکروہ ہے۔ حسن فرماتے ہیں کہ سرکاری خطوط نماز سے پہلے پڑھے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5396
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5396، ترقيم محمد عوامة 5333)
حدیث نمبر: 5397
٥٣٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن سعيد بن عبد الرحمن عن خالد بن عيسى قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يحدث الوليد بن هشام، وسليمان أمير المؤمنين على المنبر وصحف تقرأ في يوم (الجمعة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو ولید بن ہشام سے گفتگو کرتے دیکھا ہے۔ حالانکہ اس وقت سلیمان امیر المؤمنین ہونے کی حیثیت سے منبر پر بیٹھے تھے اور جمعہ کے دن سرکاری خطوط پڑھے جارہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5397، ترقيم محمد عوامة 5334)