کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک دوران خطبہ سلام کا جواب دینا اور چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 5368
٥٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن مهدي عن أبي عوانة عن ليث عن طاوس أنه كان يكره أن يرد السلام ويشمِّت العاطس والإمام يخطب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دورانِ خطبہ سلام کا جواب دیا جائے یا چھینکنے والے کو یرحمک اللّٰہ کہا جائے۔
حدیث نمبر: 5369
٥٣٦٩ - (حدثنا هشيم قال أنا ابن عون عن إبراهيم وابن سيرين أنه سألهما عن ⦗١٢٥⦘ ردّ السلام يوم الجمعة والإمام يخطب) (١) فقالا: كان يقال: من قال: أنصت فقد لغا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ جمعہ کے دن دورانِ خطبہ سلام کا جواب دیا جائے گا یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس نے کسی سے کہا خاموش ہوجاؤ اس نے بھی فضول کام کیا۔
حدیث نمبر: 5370
٥٣٧٠ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) عون عن إبراهيم قال: السكوت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سکوت لازم ہے۔
حدیث نمبر: 5371
٥٣٧١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: كان محمد يقول: إذا سلّم عليك يوم الجمعة والإمام يخطب (فأومئ) (١) إليه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرمایا کرتے تھے کہ اگر جمعہ کے دن دورانِ خطبہ تمہیں سلام کیا جائے تو سر سے اشارہ کرکے جواب دے دو ۔
حدیث نمبر: 5372
٥٣٧٢ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن سعيد قال: سمعت سعيد بن المسيب وسأله رجل عن رجل شمت رجلًا والإمام يخطب ألغا؟ قال: لا، ولكن لا يعود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی نے دوران خطبہ کسی چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہا تو کیا اس نے لغو کام کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں البتہ وہ دوبارہ ایسا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 5373
٥٣٧٣ - [حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر قال: (قال) (١) محمد بن علي والقاسم: يرد في نفسه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اپنے دل میں سلام کا جواب دے۔
حدیث نمبر: 5374
٥٣٧٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم قال: سلمت على إبراهيم والإمام يخطب يوم الجمعة فلم يرد عليّ، وقال (حين صلى) (١): إن الكلام يكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الہیثم کہتے ہیں کہ میں نے جمعہ کے دن دورانِ خطبہ ابراہیم کو سلام کیا تو انہوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ اس موقع پر کلام مکروہ ہے۔