کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی دوران خطبہ مسجد میں داخل ہو تو کیا وہ سلام کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 5364
٥٣٦٤ - حدثنا هشيم قال أخبرنا يونس عن الحسن أنه كان يسلم إذا جاء والإمام يخطب ويردون ﵇.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ جب حسن دوران خطبہ مسجد میں حاضر ہوتے تو سلام کیا کرتے تھے اور لوگ ان کے سلام کا جواب بھی دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5365
٥٣٦٥ - حدثنا هشيم قال أخبرنا مغيرة والأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يردون السلام يوم الجمعة والإمام يخطب ويشمّتون العاطس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف جمعہ کے دن دورانِ خطبہ سلام کا جواب دیتے تھے اور چھینکنے والے کو یرحمک اللہ بھی کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5366
٥٣٦٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد في الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة وقد خرج الإمام (قال) (١): يسلم ويردون عليه وإذا عطس شمّتوه وردوا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد اس شخص کے بارے میں جو جمعہ کے دن امام کے آجانے کے بعد مسجد میں د اخل ہو فرماتے ہیں کہ وہ سلام کرے گا اور لوگ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ جب وہ چھینکے گا تو وہ اسے یرحمک اللہ کہیں گے۔
حدیث نمبر: 5367
٥٣٦٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر وسالم قال: يرد السلام يوم الجمعة ويسمع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سلام کا جواب دیا جائے گا اور سلام کو سنایا جائے گا۔