کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: لوگ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر امام خطبہ دے رہا ہو تو نماز نہیں پڑھی جائے گی
٥٢٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عطاء اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ جمعہ کے خطبہ کے دوران نماز پڑھی جائے۔
٥٢٧٥ - حدثنا هشيم (قال: أنا هشام) (١) عن ابن سيرين (أنه كان) (٢) يقول: إذا خرج الإمام فلا يصل أحد حتى يفرغ الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب امام خطبہ کے لئے آجائے تو اس کے فارغ ہونے تک کوئی نماز نہیں ہے۔
٥٢٧٦ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد قال: رأيت شريحا دخل يوم الجمعة من أبواب كندة فجلس ولم يصلّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح کو ایک مرتبہ دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن کندہ کے دروازوں سے مسجد میں داخل ہوئے اور بیٹھ گئے، انہوں نے کوئی نماز نہیں پڑھی۔
٥٢٧٧ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه قال: إذا قعد الإمام على المنبر فلا صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو کوئی نماز نہیں ہے۔
٥٢٧٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الرجل يجيء يوم الجمعة والإمام يخطب يجلس (ولا) (١) يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اس شخص کے بارے میں جو جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو فرماتے ہیں کہ وہ بیٹھ جائے اور نماز نہ پڑھے۔
٥٢٧٩ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان ابن سيرين يجلس ولا يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام کے خطبہ کے دوران حضرت ابن سیرین آکر بیٹھ جاتے اور نماز نہیں پڑھتے تھے۔
٥٢٨٠ - حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن يزيد بن عبد اللَّه عن ثعلبة (ابن) (١) أبي مالك القرظي قال: أدركت عمر وعثمان فكان الإمام إذا خرج يوم الجمعة تركنا الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک قرظی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان کا زمانہ پایا، ہمارا دستور ان کے زمانے میں یہ تھا کہ جب امام جمعہ کے لئے آجاتا تو ہم نماز چھوڑ دیتے تھے۔
٥٢٨١ - حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: خروج الإمام يقطع الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ امام کا آنا نماز کو قطع کردیتا ہے۔
٥٢٨٢ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس وابن عمر أنهما كانا يكرهان الصلاة (والكلام بعد خروج) (١) الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے نکلنے کے بعد نماز اور کلام کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٥٢٨٣ - حدثنا ابن نمير قال حدثنا سفيان عن توبة عن الشعبي قال: كان شريح إذا أتى الجمعة فإن لم يكن خرج الإمام صلى ركعتين وإن كان خرج جلس واحتبى واستقبل الإمام فلم يلتفت يمينا ولا شمالا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح جمعہ کے دن تشریف لاتے، اگر امام ابھی نہ آیا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے اور اگر امام آگیا ہوتا تو بیٹھ جاتے، ہاتھوں کو گھٹنوں کے گرد باندھ لیتے اور امام کی طرف اس طرح رخ کرکے بیٹھتے کہ دائیں بائیں بالکل متوجہ نہ ہوتے۔