کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز کے لئے حاضر ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دور کعتیں پڑھے
حدیث نمبر: 5266
٥٢٦٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا حفص عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: جاء سليك الغطفاني والنبي ﷺ يخطب يوم الجمعة (فقال) (١): "صَلَّ رَكْعَتَينْ ⦗١٠٥⦘ تَجَوَّزْ فِيهِمَا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت سلیک غطفانی حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دو مختصر رکعتیں پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 5267
٥٢٦٧ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) منصور وأبو (حرة) (٢) ويونس عن الحسن قال: جاء (سليك) (٣) الغطفاني والنبي ﷺ يخطب يوم الجمعة ولم يكن (صلى) (٤) الركعتين فأمره النبي ﷺ أن يصلي ركعتين يتجوز فيهما (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ سلیک غطفانی حاضر ہوئے، انہوں نے دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ دو مختصر رکعتیں پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 5268
٥٢٦٨ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) أبو معشر عن محمد بن قيس أن النبي ﷺ حيث أمره أن يصلي ركعتين أمسك عن الخطبة حتى فرغ من ركعتيه ثم عاد إلى خطبته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تو خطبہ روک دیا۔ جب وہ دو رکعتوں سے فارغ ہوئے تو آپ نے پھر خطبہ شروع فرمایا۔
حدیث نمبر: 5269
٥٢٦٩ - حدثنا حفص عن حماد بن أبي الدرداء عن الحسن أنه كان يصلي ركعتين والإمام يخطب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن ابی الدرداء فرماتے ہیں کہ جب امام خطبہ دے رہا ہوتا تھا تو حسن دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5270
٥٢٧٠ - حدثنا أزهر (عن) (١) ابن عون قال: كان الحسن يجيء والإمام يخطب فيصلي ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ اگر حسن امام کے خطبہ کے دوران مسجد میں آتے تو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5271
٥٢٧١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: إذا جئت واللإمام يخطب يوم الجمعة فإن شئت ركعت ركعتين وإن شئت جلست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم مسجد میں آؤ تو چاہو تو دو رکعتیں پڑھ لو اور اگر چاہو تو بیٹھ جاؤ۔