کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد پھر حدث لاحق ہو جائے تو کیا اس کا وہی غسل کافی ہے؟
حدیث نمبر: 5145
٥١٤٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا العوام عن إبراهيم التيمي قال: كانوا يحبون لمن اغتسل يوم الجمعة أن لا يكون بينه وبين الجمعة حدث قال: وكانوا يقولون إذا أحدث بعد الغسل عاد إلى حاله التي كان عليها قبل (أن) (١) يغتسل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جمعہ کے غسل اور جمعہ کی نماز کے درمیان کوئی حدث نہ ہو۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد پھر حدث لاحق ہوجائے تو وہ اس حالت پر لوٹ آتا ہے جس پر وہ غسل سے پہلے تھا۔
حدیث نمبر: 5146
٥١٤٦ - حدثنا زيد بن حباب عن إبراهيم (بن) (١) نافع عن ابن طاوس عن أبيه في الرجل يغتسل يوم الجمعة ثم يحدث قال: يعيد الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد پھر حدث لاحق ہوجائے تو وہ دوبارہ غسل کرے گا۔
حدیث نمبر: 5147
٥١٤٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبدة بن أبي لبابة عن سعيد بن عبد الرحمن ابن أبزي عن أبيه أنه كان يغتسل يوم الجمعة ثم يحدث بعد الغسل ثم لا يعيد غسلا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن غسل کیا کرتے تھے اگر غسل کے بعد ان کا وضو ٹوٹ جاتا تو دوبارہ غسل نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5148
٥١٤٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن هشام قال: كان محمد يستحب أن لا يكون بينه وبين الجمعة حدث. - وقال الحسن: إذا أحدث توضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ محمد اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ جمعہ کے غسل اور جمعہ کے دوران حدث نہ ہو۔ حسن فرماتے ہیں کہ جب اسے حدث لاحق ہوجائے تو وضو کرے۔
حدیث نمبر: 5149
٥١٤٩ - حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن قال إذا اغتسل يوم الجمعة ثم أحدث أجزأه الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد حدث لاحق ہوجائے تو اس کے لئے وضو کافی ہے۔