حدیث نمبر: 5115
٥١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن علي بن رفاعة عن (حيان) (١) الأعرج عن جابر بن زيد قال: ربما وجدت البرد يوم الجمعة فلا أغتسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ بعض اوقات جمعہ کے دن مجھے سردی محسوس ہوتی ہے تو میں غسل نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 5116
٥١١٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا إسماعيل عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی، ابراہیم اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو جمعہ کے دن وضو کرے تو یہ اچھا ہے اور جو غسل کرے تو یہ بہت ہی اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 5117
٥١١٧ - وأخبرنا عبيدة ومغيرة عن إبراهيم.
حدیث نمبر: 5118
٥١١٨ - وعبد الملك عن عطاء أنهم قالوا: من توضأ يوم الجمعة فحسن ومن اغتسل فالغسل أفضل.
حدیث نمبر: 5119
٥١١٩ - حدثنا هشيم قال أخبرنا عبيدة عن أبي وائل قال: ذكروا غسل يوم الجمعة عنده فقال أبو وائل: إنه ليس بواجب؛ رب شيخ كبير لو اغتسل في البرد الشديد يوم الجمعة لمات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو وائل کے سامنے جمعہ کے دن کے غسل کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب نہیں ہے۔ بہت سے بوڑھے ایسے ہیں کہ اگر وہ سخت سردی میں غسل کریں گے تو فوت ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 5120
٥١٢٠ - حدثنا هشيم قال أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أنه كان لا يرى غسلا واجبا إلا الغسل من الجنابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سوائے غسلِ جنابت کے کسی غسل کو واجب نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5121
٥١٢١ - حدثنا عفان قال: ثنا همام عن قتادة عن الحسن عن سمرة أن النبي ﷺ قال: "مَنْ تَوَضَّأَ (لِلْجُمُعَةِ) (١) فَيهَا وَنَعِمَتْ، وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَلِكَ أَفْضَلُ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کے دن وضو کیا تو ٹھیک ہے اور اگر کسی نے غسل کیا تو یہ افضل بات ہے۔
حدیث نمبر: 5122
٥١٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال ⦗٧٧⦘ رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوَضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجْمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمعَةِ الأُخْرَى وَزِيادَةُ ثَلَاثةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے، امام کے قریب ہوکر خاموش رہے اور غور سے خطبہ سنے، اس کے اس جمعہ سے لے کر پچھلے جمعہ کے گناہ اور تین اضافی دنوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ جس شخص نے خطبہ کے دوران کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 5123
٥١٢٣ - حدثنا حفص عن حجاج عن أبي جعفر قال: سألته عن غسل الجمعة فقال: ليس (غسل) (١) (واجبا) (٢) إلا من الجنابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سوائے جنابت کے کوئی غسل واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5124
٥١٢٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "مَنْ تَطَهَّرَ (فأحسنَ) (١) الطهورَ، ثمَّ أَتَى الجمعةَ فلم يَلْهُ ولم يجهَلْ كان كفارةً لما بينَها ويين الجمعةِ (الأخرى) (٢)، والصَّلَواتُ الخمسُ كفاراتٌ لما بَيْنَهُنَّ، وفي الجمعةِ ساعةٌ لا يوافِقُهَا عَبْدٌ مسلمٌ (فَيسَأَلَ) (٣) اللَّه خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اچھی طرح غسل کیا، پھر جمعہ کی نماز کے لئے آیا اور کوئی فضول اور جہالت والا کام نہ کیا تو یہ جمعہ پچھلے جمعہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ پانچوں نمازوں میں سے ہر نماز اپنے سے پہلی نماز تک کے لئے کفارہ ہے۔ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتا ہے اسے عطا کیا جاتا ہے۔