کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی نفل نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز اقامت کی آواز سن لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4934
٤٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم في ⦗٣٧⦘ الرجل يأتي المسجد فيرى أنهم (٢) صلوا، فافترض الصلاة (فصلى) (٣) ركعتين من المكتوبة، فأقيمت الصلاة قال: يدخل مع الإمام في صلاته فإذا صلى مع الإمام ركعتين ثم يسلّم (٤)، (ثم) (٥) يجعل الركعتين الأخريين (٦) مع الإمام تطوعا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی مسجد میں آئے، وہ یہ سمجھے کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، لہٰذا وہ فرض نماز پڑھنے کے لئے نیت باندھ لے، ابھی اس نے دو رکعتیں ہی مکمل کی تھیں کہ نماز کے لئے اقامت ہوگئی۔ اب وہ امام کے ساتھ اس کی نماز میں داخل ہوجائے، جب امام دو رکعتیں پڑھ لے (تو اس کی چار مکمل ہوگئیں) اب یہ سلام پھیر کر باقی نماز میں امام کے ساتھ شریک رہے اور امام کے ساتھ آخری دو رکعتوں کو نفل بنا لے۔
حدیث نمبر: 4935
٤٩٣٥ - حدثنا هشيم عن شعبة عن حماد أنه قال كما قال إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بھی یونہی فرماتے ہیں۔