کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس صورت میں فرماتے ہیں کہ وہ باقی نماز کو امام کے ساتھ پورا کرے اور اس باقی نماز کونفل بنائے
حدیث نمبر: 4927
٤٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا معتمر عن ليث عن طاوس أنه قال في الرجل ⦗٣٦⦘ يصلي في المسجد ركعتين من الفريضة وحده ثم تقام الصلاة قال: يصلي معهم ولا يعتد بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی مسجد میں آکر اپنی فرض نماز اکیلے پڑھ لے اور پھر جماعت کھڑی ہوجائے تو وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے اور اپنی نماز کو شمار نہ کرے۔
حدیث نمبر: 4928
٤٩٢٨ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) سيار والمغيرة عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی، حسن ، حضرت شعبہ اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ وہ اپنی نماز کا سلام پھیر دے اور امام کے ساتھ اس کی نماز میں داخل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 4929
٤٩٢٩ - وأخبرنا يونس ومنصور عن الحسن.
حدیث نمبر: 4930
٤٩٣٠ - وحجاج عن عطاء وشعبة عن الحكم قالوا: يسلم (ثم) (١) يدخل مع الإمام في صلاته.
حدیث نمبر: 4931
٤٩٣١ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: أظنه عن عتبة بن قيس عن عبد اللَّه بن عتبة قال: يقطعها ثم يدخل معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ اپنی نماز توڑ کر ان کی جماعت میں داخل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 4932
٤٩٣٢ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: سمعت حمادا يقول: أحب إليَّ أن يتكلم ويدخل معهم في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ وہ کلام کرے اور پھر ان کی جماعت میں داخل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 4933
٤٩٣٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت الشعبي يقول: إذا دخل الرجل في الفريضة ثم (فجاءته) (١) الإقامة قطعها، وكانت له نافلة ودخل في الفريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی فرض نماز شروع کرے اور اسی نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو وہ اپنی نماز توڑ دے، وہ اس کے لئے نفل بن جائے گی اور وہ ان کے ساتھ فرض نماز میں داخل ہوجائے۔