کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی آدمی مسجد میں آکر اپنی نماز پڑھ لے اور پھر اسی نماز کے لئے جماعت کھڑی ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4919
٤٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن عيينة (عن عمرو) (١) عن عطاء بن يسار سمع أبا هريرة يقول: إذا أقيمت الصلاة (فلا) (٢) صلاة إلا المكتوبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب جماعت کھڑی ہوجائے تو صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4919
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٩٨٧)، والطحاوي ١/ ٣٧٢، وابن عدي ١/ ٢٩١، وقد ورد مرفوعًا عند مسلم (٧١٠)، وأحمد (٨٣٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4919، ترقيم محمد عوامة 4875)
حدیث نمبر: 4920
٤٩٢٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال: إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب جماعت کھڑی ہوجائے تو صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4920
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4920، ترقيم محمد عوامة 4876)
حدیث نمبر: 4921
٤٩٢١ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن (بن) (١) عمرو (عن) (٢) فضيل عن سعيد بن جبير أنه رأى رجلا يصلي عند إقامة العصر قال: يسرُّك أن يقال صلى ابن فلانة (ستا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ عصر کی اقامت کے وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ سن کر خوشی ہوگی کہ فلانی کے بیٹے نے چھ رکعتیں پڑھی ہیں ؟ حضرت فضیل کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ابراہیم سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اقامت کے وقت نماز کو مکروہ خیال کیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4921
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4921، ترقيم محمد عوامة 4877)
حدیث نمبر: 4922
٤٩٢٢ - قال: فذكرت ذلك لإبراهيم فقال: كانت تكره الصلاة مع الإقامة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4922
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4922، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 4923
٤٩٢٣ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن فضيل (بن عمرو) (١) عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون الصلاة إذا أخذ المؤذن في الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف مؤذن کے اقامت شروع کردینے کے بعد نماز کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4923
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4923، ترقيم محمد عوامة 4878)
حدیث نمبر: 4924
٤٩٢٤ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن ميمون قال: إذا كبر المؤذن بالإقامة فلا تصلين شيئا حتى تصلي المكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جب مؤذن اقامت کے لئے اللہ اکبر کہہ دے تو فرض نماز کی ادائیگی تک کوئی نماز نہ پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4924
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4924، ترقيم محمد عوامة 4879)
حدیث نمبر: 4925
٤٩٢٥ - حدثنا عبد السلام (بن) (١) حرب عن ابن أبي فروة عن أبي بكر بن المنكدر عن سعيد بن المسيب أن عمر رأى (رجلا) (٢) يصلي ركعتين والمؤذن يقيم فانتهره وقال: لا صلاة والمؤذن يقيم إلا الصلاة (٣) التي تقام لها الصلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا وہ مؤذن کی اقامت کے دوران دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اسے ڈانٹا اور فرمایا کہ جب مؤذن اقامت کہے تو اس وقت سوائے اس نماز کے کوئی نماز نہیں ہوتی جس کے لئے اقامت کہی جارہی ہے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ ابن أبي فروة منكر الحديث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4925، ترقيم محمد عوامة 4880)
حدیث نمبر: 4926
٤٩٢٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن عطاء قال: إذا كنت في السجد (وأقيمت) (١) الصلاة فلا تركع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب تم مسجد میں ہو اور نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو رکوع نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4926
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4926، ترقيم محمد عوامة 4881)