حدیث نمبر: 4890
٤٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا (١) سفيان بن عيينة عن زيد بن أسلم عن ابن عمر قال: سألت صهيبا كيف كان رسول اللَّه ﷺ يصنع حيث كان يسلم عليه قال: كان يشير بيده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت صہیب سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتا تو آپ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4891
٤٨٩١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) عطاء قال: سلمت على ابن عباس وهو يصلي في وجه الكعبة فأخذ بيده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سلام کیا، اس وقت وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، انہوں نے جواب میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
حدیث نمبر: 4892
٤٨٩٢ - حدثنا (١) حفص عن ليث عن عطاء قال: سلمت على ابن عباس وهو في الصلاة فلم يرد علي وبسط يده إليّ وصافحني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سلام کیا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا کر مجھ سے مصافحہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 4893
٤٨٩٣ - حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن عبد ربه عن أبي عياض عن أبي هريرة قال: إذا سلم عليك وأنت في الصلاة فرد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی سلام کرے اور تم نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے سلام کا جواب دو ۔
حدیث نمبر: 4894
٤٨٩٤ - حدثنا (حفص) (١) وأبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: ما كنت لأسلم على رجل وهو يصلي، زاد (أبو) (٢) معاوية: ولو سلم عليَّ (لرددت) (٣) عليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں کسی نمازی کو سلام نہیں کروں گا۔ ابو معاویہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر کوئی مجھے نماز میں سلام کرے تو میں اس کے سلام کا جواب دوں گا۔
حدیث نمبر: 4895
٤٨٩٥ - حدثنا عبدة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: إذا سلم (على) (١) أحدكم وهو في الصلاة فليشر بيده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں تم میں سے کسی کو سلام کیا جائے تو ہاتھ سے اشارہ کرے۔
حدیث نمبر: 4896
٤٨٩٦ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي (مجلز) (٢) سئل عن الرجل يسلم (عليه) (٣) (٤) في الصلاة (٥) قال: يرد بشق رأسه الأيمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ سر کو دائیں طرف جھکا کر جواب دے۔
حدیث نمبر: 4897
٤٨٩٧ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في الرجل يسلم عليه في الصلاة قال: يرد ﵇ إذا انصرف فإذا ذهب (أتبعه) (١) بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو نماز میں سلام کیا جائے تو وہ فارغ ہونے کے بعد اس کے سلام کا جواب دے۔ اگر وہ جاچکا ہو تو اسے سلام کر بھجوائے۔
حدیث نمبر: 4898
٤٨٩٨ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: لما قدم عبد اللَّه من الحبشة أتى النبي ﷺ وهو يصلي فسلم عليه فأومأ وأشار برأسه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جب حبشہ سے واپس آئے تو انہوں نے نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سر کے اشارے سے انہیں سلام کا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 4899
٤٨٩٩ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: حدثنا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن عطاء بن أبي رباح أن رجلًا سلم على ابن عباس وهو في الصلاة فأخذ بيده فصافحه وغمز يده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نماز میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سلام کیا تو انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کیا اور اس کا ہاتھ دبایا۔
حدیث نمبر: 4900
٤٩٠٠ - حدثنا وكيع قال سمعت سفيان يقول: لا يرد السلام حتى يصلي فإن كان قريبا رد عليه وإن كان بعيدا أتبعه بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ نماز میں سلام کا جواب نہ دیا جائے گا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اگر قریب ہو تو اس کے سلام کا جواب دے دے اور اگر دور ہو تو اسے سلام کرے۔
حدیث نمبر: 4901
٤٩٠١ - حدثنا يونس بن محمد عن عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا عاصم عن أبي العالية قال: سئل عن الرجل يسلم عليه وهو في الصلاة قال: إذا قضى الصلاة أتبعه بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ سے پوچھا گیا کہ اگر کسی آدمی کو دورانِ نماز سلام کیا جائے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز پوری کرنے کے بعد اسے سلام کرے۔
حدیث نمبر: 4902
٤٩٠٢ - حدثنا عفان قال حدثنا حماد بن سلمة عن (أبي) (١) الزبير عن ابن الحنفية عن عمار قال: أتيت النبي ﷺ وهو يصلي فسلمت عليه قال: فرد عليَّ السلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔