حدیث نمبر: 4882
٤٨٨٢ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (عاصم) (١) (عن) (٢) أبي وائل عن عبد اللَّه قال كنا نسلم على النبي ﷺ وهو يصلي فيرد علينا قبل أن (نأتي) (٣) أرض الحبشة فلما قدمنا من أرض الحبشة سلمت عليه فلم يرد عليّ فأخذني ما قرب وما بعد فلما قضى صلاته قال: "إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تُكَلِّمُوا فِي الصَّلَاةِ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے ہم دورانِ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں نے دورانِ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کو جب چاہتے ہیں لاگو فرماتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 4883
٤٨٨٣ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) سفيان عن أبي الزبير (عن جابر) (٢) قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ في حاجة فجئت وهو يصلي فسلمت عليه فلم يرد عليّ السلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔
حدیث نمبر: 4884
٤٨٨٤ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير (١) عن أبي مجلز قال: السلام على المصلي عجز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ نمازی کو سلام کرنا بےوقوفی ہے۔
حدیث نمبر: 4885
٤٨٨٥ - حدثنا حفص ووكيع عن زكريا قال: قلت للشعبي أدخل على قوم وهم يصلون فرادى (أسلّم) (١) عليهم؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر میں کچھ لوگوں سے ملاقات کروں اور وہ اکیلے نماز پڑھ رہے ہوں تو کیا میں انہیں سلام کروں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 4886
٤٨٨٦ - حدثنا جرير عن الأعمش عن إبراهيم قال: يرد عليه في نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر نمازی کو کوئی سلام کرے تو وہ اپنے دل میں جواب دے۔
حدیث نمبر: 4887
٤٨٨٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من بني عامر قال: قمت إلى جنب أبي ذر وهو يصلي فسلمت عليه (فما رد) (١) عليّ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنو عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ذر کے پاس جا کر کھڑا ہوا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔
حدیث نمبر: 4888
٤٨٨٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن يعقوب بن عبد اللَّه بن الأشج عن بُسر (١) بن سعيد قال: سلّم على النبي ﷺ رجل وهو يصلي فأشار إليه بيده كأنه ينهاه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بسر بن سعید روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا، آپ نے اسے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا جیسے اسے منع کررہے ہوں۔
حدیث نمبر: 4889
٤٨٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش (عن إبراهيم عن علقمة) (١) عن عبد اللَّه قال: كنا نسلم على النبي ﷺ وهو في الصلاة قبل أن نخرج إلى النجاشي فيرد علينا فلما رجعنا من عند النجاشي سلمت عليه فلم يرد (و) (٢) قال: "إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجاشی کے پاس جانے سے پہلے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا کہ نماز کی اپنی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔