حدیث نمبر: 4864
٤٨٦٤ - حدثنا أبو بكر، قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام کو لقمہ دینا کلام ہے۔
حدیث نمبر: 4865
٤٨٦٥ - و (عن) (١) مغيرة عن إبراهيم قالا: هو كلام، يعني الفتح على الإمام. حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم أنه (كان) (٢) يكره أن يفتح على الإمام.
حدیث نمبر: 4866
٤٨٦٦ - حدثنا ابن علية عن ميمون (أبي) (١) حمزة عن إبراهيم عن ابن مسعود في تلقين الإمام: إنما هو كلام يلقيه إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود امام کو لقمہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ کلام ہے۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک امام کو لقمہ دینا اور اپنی خادمہ کو یا کبیرہ کہہ کر بلانا برابر ہے۔
حدیث نمبر: 4867
٤٨٦٧ - قال: وقال إبراهيم: ما أبالي لقنته أو قلت: يا كثير (١) (٢).
حدیث نمبر: 4868
٤٨٦٨ - حدثنا حفص عن محمد بن قيس عن (سلم) (١) بن عطية أن رجلا فتح على إمام شريح وهو في (الصلاة) (٢) فلما انصرف قال له: اقض صلاتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلم بن عطیہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے امام شریح کو دورانِ نماز لقمہ دیا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ اپنی نماز دوبارہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 4869
٤٨٦٩ - حدثنا ابن نمير عن حريث عن حميد (١) بن عبد الرحمن أنه كره أن يلقن القاريء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ قاری کو لقمہ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 4870
٤٨٧٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: من فتح على الإمام فقد (تكلم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جس نے امام کو لقمہ دیا اس نے بات کرلی۔
حدیث نمبر: 4871
٤٨٧١ - حدثنا حفص عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي أنه كره الفتح على الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہامام کو لقمہ دینے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔