کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز سے کوئی دوسری نماز یاد آ جائے
حدیث نمبر: 4826
٤٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا (١) عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد بن سيرين عن بعض بني أبي بكرة أن أبا بكرة نام في دالية لهم (فظننا) (٢) أنه قد صلى العصر فاستيقظ عند غروب الشمس قال: فانتظر حتى غابت الشمس ثم صلى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
بنو ابی بکرہ کے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ ہمارے ایک کمرے میں سو گئے۔ ہم سمجھے کہ انہوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہوگی، وہ سورج کے غروب کے وقت بیدار ہوئے تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے کا انتظار کیا پھر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4826
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4826، ترقيم محمد عوامة 4786)
حدیث نمبر: 4827
٤٨٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعد (بن) (١) إسحاق عن عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب عن أبيه قال: نمت عن الفجر حتى طلع قرن الشمس، ونحن خارفون (٢) في مال لنا، فملت إلى شربة (٣) من النخل (٤) أتوضأ قال: (فبصر بي) (٥) أبي فقال: ما شأنك؟ قلت: أصلي قد توضأت، فدعاني فأجلسني إلى جنبه (٦) فلما أن تعلت الشمس وابيضت وأتيت المسجد ضربني قبل أن أقوم إلى الصلاة (و) (٧) قال: تنسى؟ صل الآن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن کعب فرماتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے وقت سو گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس وقت ہم پھل چننے کے لئے اپنی ایک زمین میں تھے۔ میں کھجور کے ایک درخت کے پاس وضو کرنے کے لئے گیا تو میرے والد نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ میں وضو کرکے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ جب سورج بلند ہوگیا اور سفید ہوگیا۔ تو انہوں نے میرے نماز شروع کرنے سے پہلے مجھے مارا اور فرمایا کیا تو بھول گیا تھا ؟ اب نماز پڑھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4827
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4827، ترقيم محمد عوامة 4787)
حدیث نمبر: 4828
٤٨٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في الرجل إذا نسي أن يصلي صلاة حتى تصفر الشمس قال: يصليها إذا غابت الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی عصر کی نماز پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ سورج زرد پڑجائے تو اسے سورج غروب ہونے کے بعد ادا کرے۔ حضرت قتادہ بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4828، ترقيم محمد عوامة 4788)
حدیث نمبر: 4829
٤٨٢٩ - وقال قتادة مثل ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4829
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4829، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 4830
٤٨٣٠ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) حصين بن عبد الرحمن قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه ابن أبي قتادة عن أبيه أبي قتادة قال: (سرنا) (٣) مع رسول اللَّه ﷺ ونحن في ⦗١٤⦘ سفر ذات ليلة قال: قلنا (٤) يا رسول اللَّه لو عرست بنا فقال: "إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ؟ " (٥) فقال بلال: أنا يا رسول اللَّه، قال: فعرس بالقوم واضطجعوا واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه واستيقظ رسول اللَّه ﷺ وقد طلع حاجب الشمس فقال: "يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا؟ " فقال: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق ما ألقيت عليَّ نومة مثلها قال فقال: "إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ"، قال: ثم أمرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضؤوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چناچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لئے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انہوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4830
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٥٩٥)، ومسلم (٦٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4830، ترقيم محمد عوامة 4789)
حدیث نمبر: 4831
٤٨٣١ - حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى عن أبي سلمة عن جابر قال: جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش ويقول: يا رسول اللَّه ما صليت العصر حتى كادت الشمس أن تغيب فقال رسول اللَّه ﷺ: "وأنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُ بَعْدُ"، فنزل فتوضأ ثم صلى (العصر) (١) بعد ما غربت الشمس ثم صلى المغرب بعد ما صلى العصر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق میں حضرت عمر قریشی سرداروں کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نے بھی ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد مغرب کی نماز ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4831
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، رواية الكوفيين عن علي بن المبارك عن يحيى فيها شيء، ينزلها إلى رتبة الحسن ولكنه متابع، والحديث أخرجه البخاري (٥٧١)، ومسلم (٦٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4831، ترقيم محمد عوامة 4790)
حدیث نمبر: 4832
٤٨٣٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن أبي رجاء عن عمران بن حصين قال: (كنا) (١) مع رسول اللَّه ﷺ في سفر وإنا سرينا (الليلة) (٢) حتى إذا كان آخر الليل ⦗١٥⦘ (وقعنا تلك الوقعة ولا وقعة) (٣) عند المسافر أحلى منها فما أيقظنا إلا حر الشمس فجعل عمر يكبر فلما استيقظ شكى (٤) الناس إليه ما أصابهم فقال: "لا ضير"، (قال) (٥): فارتحلوا فساروا غير بعيد ثم نزل فنودي بالصلاة فصلى بالناس (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے رات کو سفر کیا، رات کے آخری حصہ میں ہم نے پڑاؤ ڈالا اور اس پڑاؤ سے زیادہ محبوب کوئی پڑاؤ مسافر کے لئے نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسا سوئے کہ سورج کی گرمی نے ہمیں بیدار کیا۔ حضرت عمر اس موقع پر تکبیر کہنے لگے۔ جب لوگ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس واقعہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ یہاں سے چل پڑو۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ پھر قیام ہوا اور اذان دی گئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4832
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4832، ترقيم محمد عوامة 4791)