کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4810
٤٨١٠ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم عن أيوب (١) أبي العلاء قال حدثنا قتادة عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ نَسِي صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهاَ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُصَلِّيَهَا ⦗٨⦘ إِذَا ذَكَرَهَا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سوجائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4810
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو العلاء صدوق، وصرح هشيم بالتحديث كما في تاريخ واسط ١/ ٩٥، وطبقات المحدثين بأصبهان (٤٦٣)، وتاريخ أصبهان (١٢٢)، أخرجه البخاري (٥٩٧) ومسلم (٦٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4810، ترقيم محمد عوامة 4770)
حدیث نمبر: 4811
٤٨١١ - حدثنا غندر (١) عن شعبة عن جامع بن شداد قال سمعت عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال سمعت عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من الحديبية فذكروا أنهم نزلوا دهاسا (٢) من الأرض، يعني (بالدهاس) (٣): الرمل، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ يَكْلَؤُنَا؟ " فقال بلال: (أنا) (٤) فقال النبي ﷺ: "إِذن (نَنَامُ) (٥) " قال: فناموا حتى طلعت عليهم الشمس قال: فاستيقظ ناس فيهم فلان وفلان وفيهم عمر فقلنا: (اهضبوا) (٦) يعني تكلموا، قال فاستيقظ النبي ﷺ فقال: "افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ"، قال: كَذَلَكِ لِمْن نَامَ أَوْ نَسِيَ (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو ہم نے ایک ریتلی زمین پر پڑاؤ ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے عرض کیا کہ میں جگاؤں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر ہم سو جاتے ہیں۔ چناچہ سب لوگ سو گئے اور سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ پھر کچھ لوگ اٹھے جن میں فلاں فلاں اور حضرت عمر بھی تھے۔ ہم نے کہا کہ چلو بات کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہوئے اور فرمایا کہ جس طرح تم کررہے تھے کرتے رہو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز کے وقت سو جائے یا بھول جائے اس کے لئے یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4811
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، عبد الرحمن قال جماعة: صحابي، وذكره ابن حبان في الثقات، وأخرج له أبو داود وروى عنه جمع من أهل العلم والحديث، أخرجه أحمد (٤٤٢١)، وأبو داود (٤٤٧)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٣)، والبزار (٤٠٠) / كشف)، كما أخرجه ابن حبان (١٥٨٠)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والطحاوي ١/ ٤١٥، والشاشي (٨٣٩)، والبيهقي (٢/ ٢١٨)، والمزي ١٧/ ٢٩٢ في ترجمة عبد الرحمن بن علقمة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4811، ترقيم محمد عوامة 4771)
حدیث نمبر: 4812
٤٨١٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن (أبي) (١) إسماعيل عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: عرسنا مع النبي ﷺ ذات ليلة فلم نستيقظ (حتى آذتنا) (٢) الشمس فقال لنا رسول اللَّه ﷺ: "لِيَأْخُذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِرَأسِ رَاحِلَتِهِ (ثُمَّ) (٣) لِيتَنَحَّ عَنْ هَذَا الْمنزِلِ"، ثم دعا بماء فتوضأ فسجد سجدتين ثم أقيمت الصلاة فصلى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک رات کے آخری حصہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا، صبح ہم میں سے کوئی بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ ہر شخص اپنی سواری کو پکڑ کر اس جگہ سے نکل جائے۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر وضو فرمایا اور دو سجدے کئے۔ پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی اور آپ نے نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4812
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٦٨٠)، وأحمد (٩٥٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4812، ترقيم محمد عوامة 4772)
حدیث نمبر: 4813
٤٨١٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الجبار [(بن) (١) عباس] (٢) عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ في (سفره) (٣) الذي ناموا فيه حتى طلعت الشمس ثم قال: "إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللَّهُ إلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أوْ نَسِي صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذكَرَهَا وَإِذَا اسْتيْقَظَ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سفر میں جس میں سب سوئے رہ گئے اور سورج طلوع ہوگیا تھا ، فرمایا ” تم مردہ حالت میں تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تمہاری روحوں کو واپس لوٹایا۔ جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے نماز پڑھنا بھول جائے تو جب جاگے اور جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4813
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الجبار صدوق، أخرجه أبو يعلى (٨٩٥)، والعقيلي (٣/ ٨٨)، والطبراني (٢٢/ ٢٦٨)، وابن عدي (٥/ ١٩٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4813، ترقيم محمد عوامة 4773)
حدیث نمبر: 4814
٤٨١٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا نام الرجل عن صلاة أو نسي فليصل إذا استيقظ (أو) (١) ذكر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے تو جب یاد آئے اور جب بیدار ہو اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4814
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ الحارث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4814، ترقيم محمد عوامة 4774)
حدیث نمبر: 4815
٤٨١٥ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أن عمران بن حصين وسمرة بن جندب اختلفا في الذي ينسى صلاته فقال عمران: يصليها إذا ذكرها وقال سمرة: ⦗١٠⦘ يصليها إذا ذكر وفي وقتها من الغد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عمران بن حصین کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہوگیا جو نماز پڑھنا بھول جائے۔ حضرت عمران بن حصین نے فرمایا کہ جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور حضرت سمرہ نے فرمایا کہ جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے یا اگلے دن اس کے وقت میں پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4815
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4815، ترقيم محمد عوامة 4775)
حدیث نمبر: 4816
٤٨١٦ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن سماك [عن (سبرة) (١) بن (نخف) (٢)] (٣) عن ابن عباس قال: يصلي إذا (ذكر) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4816، ترقيم محمد عوامة 4776)
حدیث نمبر: 4817
٤٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) الفضل بن دكين عن إسرائيل عن جابر عن أبي بكر بن أبي موسى عن سعد قال: قال يصليها إذا ذكرها ويصلي مثلها من الغد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے اور اگلے دِن اس کے وقت اسی جیسی نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4817
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4817، ترقيم محمد عوامة 4777)
حدیث نمبر: 4818
٤٨١٨ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: من نام عن صلاة أو نسيها قال: يصلي (متى) (٢) ذكرها عند طلوع الشمس أو عند غروبها ثم (قرأ) (٣): ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: ١٤]، قال: إذا ذكرتها (فصلها) (٤) في أي ساعة (كنت) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے تو طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت اسے جب بھی یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی } پھر فرمایا کہ جب تمہیں یاد آجائے اس وقت پڑھ لو خواہ وہ کوئی بھی وقت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4818
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4818، ترقيم محمد عوامة 4778)
حدیث نمبر: 4819
٤٨١٩ - حدثنا وكيع عن عبيد اللَّه بن أبي حميد عن أبي مليح عن أبي ذر وعبد الرحمن بن عوف في الصلاة تنسى (قالا) (١): يصليها إذا ذكرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر اور حضرت عبدا لرحمن بن عوف اس شخص کے بارے میں جو نماز پڑھنا بھول جائے فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4819
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عبيد اللَّه متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4819، ترقيم محمد عوامة 4779)
حدیث نمبر: 4820
٤٨٢٠ - حدثنا الفضل بن دكين عن موسى بن قيس عن زكريا بن (جراد) (١) عن أبي عبد الرحمن قال: ما كان لك أحد يهبّك (فصلها) (٢) (للذكرى) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ تمہیں جگانے والا کوئی نہ تھا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4820، ترقيم محمد عوامة 4780)
حدیث نمبر: 4821
٤٨٢١ - حدثنا يزيد بن هارون عن أشعث عن الشعبي (و) (١) إبراهيم (قالا) (٢) ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ أي: صلها إذا ذكرتها وقد نسيتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور ابراہیم اس آیت { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم نماز پڑھنا بھول جاؤ تو جب یاد آجائے اس وقت پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4821، ترقيم محمد عوامة 4781)
حدیث نمبر: 4822
٤٨٢٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن صخر بن (جويرية) (٢) قال: سألت نافعا عن رجل نسي صلاة العصر حتى (اصفرت) (٣) الشمس قال: (يصليها) (٤) ليست كشيء من الصلوات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صخر بن جویریہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عصر کی نماز پڑھنا بھول جائے اور سورج زرد پڑجائے تو اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسے ادا کرلے ، نماز جیسی کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4822، ترقيم محمد عوامة 4782)
حدیث نمبر: 4823
٤٨٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم قال: يصليها إذا ذكرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4823
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4823، ترقيم محمد عوامة 4783)
حدیث نمبر: 4824
٤٨٢٤ - حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) مغيرة عن إبراهيم في الرجل ينام عن صلاة العشاء حتى تبزغ الشمس قال: يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو عشاء کی نماز پڑھے بغیر سو جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے فرماتے ہیں کہ وہ اسے اس وقت ادا کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4824
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4824، ترقيم محمد عوامة 4784)
حدیث نمبر: 4825
٤٨٢٥ - حدثنا وكيع عن جعفر عن الزهري أن النبي ﷺ نام عن صلاة الفجر حتى طلعت الشمس فقال لأصحابه: "تَزَحْزَحُوا عَنِ الْمَكَانِ الذِي (أَصَابَتكُمْ) (١) فِيهِ الْغَفْلَةُ"، فصلى ثم قال: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز کے وقت سو گئے ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس جگہ کو چھوڑ دو جس میں تم پر غفلت طاری ہوئی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4825
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4825، ترقيم محمد عوامة 4785)