کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4807
٤٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) يونس ومنصور عن الحسن أنه كان يقول: من نام عن صلاة العشاء فاستيقظ عند طلوع الشمس قال: يصلي الفجر ثم يصلي العشاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی عشاء کی نماز سے پہلے سو گیا اور پھر سورج طلوع ہونے کے بعد اس کی آنکھ کھلے تو وہ پہلے فجر کی نماز پڑھے اور پھر عشاء کی۔
حدیث نمبر: 4808
٤٨٠٨ - حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول: يبدأ بالعشاء التي نام عنها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلے عشاء کی نماز پڑھے، جسے پڑھے بغیر وہ سو گیا تھا۔
حدیث نمبر: 4809
٤٨٠٩ - حدثنا روح بن عبادة عن ابن جريج عن عطاء في الرجل ينسى العتمة أو يرقد عنها حتى تكون (١) الصبح فقيل له فإن بدأ بالعتمة فاتته الصبح قال: فليبدأ بالعتمة وإن فاتته الصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو عشاء کی نماز پڑھنا بھول گیا یا وہ صبح تک سویا رہا فرماتے ہیں کہ وہ پہلے عشاء کی نماز پڑھے گا۔ کسی نے پوچھا کہ اگر عشاء کی نماز پڑھنے کی صورت میں صبح کی نماز قضا ہو رہی ہو تو پھر کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر بھی عشاء کی نماز پڑھے، خواہ اس کی فجر کی نماز قضاء ہوجائے۔