کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر امام کو نماز میں سہو ہو جائے اور وہ سجدہ سہو نہ کرے تو لوگ کیا کریں؟
حدیث نمبر: 4578
٤٥٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) شبابة بن سوار قال: حدثنا (٢) ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب أن سويد بن قيس أخبره عن معاوية بن (حديج) (٣) أن النبي ﷺ صلى يوما فسلم وانصرف وقد بقي عليه من الصلاة ركعة فأدركه رجل ⦗٤٩٠⦘ فقال: نسيت من الصلاة ركعة فرجع فدخل المسجد وأمر بلالا فأقام الصلاة فصلى بالناس ركعة فأخبرت بذلك الناس فقالوا: أتعرف الرجل (فقلت) (٤): لا، إلا أن أراه فمرّ بي فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحة بن عبيد اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن حدیج کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چل دیئے حالانکہ ابھی ایک رکعت باقی رہتی تھی۔ ایک آدمی حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے گئے اور جا کر عرض کیا کہ آپ نماز کی ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر حضرت بلال کو حکم دیا کہ اقامت کہیں۔ انہوں نے اقامت کہی اور نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ میں نے لوگوں کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا ؟ میں نے کہا کہ ویسے تو میں نہیں جانتا لیکن اگر دیکھوں گا تو پہچان لوں گا۔ پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھ کر کہا کہ یہی وہ آدمی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ ہیں۔
حدیث نمبر: 4579
٤٥٧٩ - حدثنا شبابة عن ليث عن يزيد (عن) (١) عمران بن (أبي) (٢) أنس عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن النبي ﷺ صلى يوما فسلّم في ركعتين ثم انصرف فأدركه (ذو) (٣) الشمالين فقال: يا رسول اللَّه انقصت الصلاة أم نسيت؟ قال: "لَمْ تَنْقُصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ" (قال) (٤): بلى، والذي بعثك بالحق فقال النبي ﷺ: "أَصَدَق ذو اليْدَيْنِ؟ " قالوا: نعم يا رسول اللَّه فصلى بالناس ركعتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر غلطی سے سلام پھیر دیا۔ جب آپ چل پڑے تو ذوشمالین نے جاکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں نے نماز کو کم کیا ہے اور نہ میں بھولا ہوں ! ذوشمالین نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! ایسا کچھ ہوگیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذو الیدین (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) سچ کہتا ہے ؟ انہوں نے تصدیق کی تو رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 4580
٤٥٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن النبي ﷺ صلى الظهر ركعتين ثم سلم فقيل له: أنقص من الصلاة؟ فصلى ركعتين أخراوين (وسلم) (١) ثم سجد سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دو سری دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے فرمائے۔
حدیث نمبر: 4581
٤٥٨١ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عكرمة قال: صلى النبي ﷺ بالناس ثلاث ركعات ثم انصرف فقال له بعض القوم: حدث في الصلاة شيء؟ قال: "وَمَا ذَاكَ؟) قالوا: لم تصل إلا ثلاث ركعات، فقال: "أَكَذَلِكَ يَا ذَا الْيَدَيْنِ؟ " وكان يسمى (ذا) (١) الشمالين قال: نعم قال: فصلى ركعة وسجد سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو تین رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف تین ہی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا اے ذو الدمین ! (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر دو سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 4582
٤٥٨٢ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن (أبي) (١) المهلب عن عمران بن حصين قال صلى رسول اللَّه ﷺ العصر فسلم في ثلاث ركعات ثم دخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق فقال: يا رسول اللَّه فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس فقال: "صَدَقَ هَذَا؟ " قالوا: نعم. قال: فصلى تلك الركعة ثم سلّم ثم سجد سجدتين ثم سلّم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک آدمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آج ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے سے اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 4583
٤٥٨٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (١) عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ صلى بالناس ركعتين فسها فسلم فقال له رجل يقال له ذو اليدين، فذكر مثل حديث ابن عون وهشام وحديثهما أنه قال: نقصت الصلاة، (فقال) (٢): لا. فصلى ركعتين أخراوين (ثم سلّم) (٣) ثم سجد سجدتين ثم سلَّم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور غلطی سے سلام پھیر دیا۔ ذو الیدین نامی ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر دوسجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 4584
٤٥٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عاصم عن المسيب بن رافع أن الزبير ⦗٤٩٢⦘ ابن العوام صلى فتكلم فبنى على صلاته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر بن عوام نے نماز پڑھی، پھر بات کی پھر اسی نماز کو مکمل فرمایا۔
حدیث نمبر: 4585
٤٥٨٥ - حدثنا يحيى بن سعيد (عن محمد بن عجلان) (١) عن محمد بن يوسف عن أبيه قال: فات ابن الزبير بعض الصلاة فقال لي بيده: كم فاتني؟ قال قلت: لا أدري ما تقول قال: كم (صليتم) (٢) قلت: كذا وكذا قال: فصلى وسجد سجدتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یوسف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کی کچھ نماز فوت ہوگئی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کتنی نماز فوت ہوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نہیں سمجھ رہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے کتنی نماز پڑھ لی ہے ؟ میں نے کہا کہ اتنی نماز پڑھ لی ہے۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی اور سہو کے دو سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 4586
٤٥٨٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن مكحول أن أبا الدرداء صلى بهم في سقيفة بالشام وهم خارجون قال: فمطروا مطرا بلغ منهم فلما صلى (وسلم) (١) قال: أما كان في القوم فقيه يقول يا هذا خفف فإنا قد مطرنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت ابو الددراء نے لوگوں کو شام میں نماز پڑھائی، حضرت ابو الدرداء ایک چھت کے نیچے تھے اور لوگ باہر تھے۔ اتنے میں بارش ہوگئی اور لوگ بھیگ گئے۔ جب حضر ت ابو الدرداء نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے فرمایا کہ کیا لوگوں میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو یہ کہہ دیتا کہ ” اے امام ! نماز کو مختصر کردے ہم پر بارش ہورہی ہے “
حدیث نمبر: 4587
٤٥٨٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن ابن الأصبهاني عن عكرمة أن النبي ﷺ صلى (١) العصر ركعتين ثم سلم ودخل فدخل عليه رجل من أصحابه يقال له ذو الشمالين فقال: يا رسول اللَّه قصرت الصلاة؟ قال: مَاذا؟ قال: صليت ركعتين فخرج فقال: "مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فقالوا: يا رسول اللَّه؛ نعم، فصلى بهم ركعتين وسجد سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھادیں۔ پھر سلام پھیر کر گھر تشریف لے گئے۔ آپ کے صحابہ میں سے ذوالیدین نامی ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ! انہوں نے کہا کہ آپ نے آج دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا ذو الیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 4588
٤٥٨٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: إذا أحدثت فصلّ ركعتين وإن تكلمت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب تمہیں سہو لاحق ہوجائے تو دو رکعتیں پڑھ لو خواہ تم نے بات چیت کی ہو۔
حدیث نمبر: 4589
٤٥٨٩ - حدثنا غندر (١) عن شعبة عن (سعد) (٢) بن إبراهيم عن عروة بن الزبير أنه صلى مرة المغرب ركعتين ثم سلم فكلم قائده فقال له قائده: إنما صليت ركعتين فصلى ركعة ثم سلم وسجد سجدتين ثم قال: إن رسول اللَّه ﷺ (فعل مثل هذا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے مغرب کی نماز میں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور پھر آگے بیٹھے ہوئے شخص سے کوئی بات کی۔ اس نے کہا کہ آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں ہیں۔ حضرت عروہ نے ایک رکعت پڑھائی، سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یونہی کیا تھا۔