حدیث نمبر: 4541
٤٥٤١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ سجد سجدتي السهو بعد الكلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات کرنے کے بعد سجودِ سہو فرمائے۔
حدیث نمبر: 4542
٤٥٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في رجل نسي سجدتي السهو حتى يخرج من المسجد قال: لا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس شخص کے بارے میں جو سجدۂ سہو کرنا بھول جائے اور مسجد سے باہر نکل جائے فرماتے ہیں کہ وہ نماز کو نہیں لوٹائے گا۔ جبکہ حضرت ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نماز کو لوٹائے گا۔
حدیث نمبر: 4543
٤٥٤٣ - وقال: ابن شبرمة: يعيد الصلاة.
حدیث نمبر: 4544
٤٥٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم أنه لقي ذلك فأعاد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم کو یہ صورت پیش آئی تو انہوں نے نماز لوٹائی تھی۔
حدیث نمبر: 4545
٤٥٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن وضاح قال: سألت قتادة فقال: يعيد سجدتي السهو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وضاح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سجودِ سہو کو لوٹائے گا۔
حدیث نمبر: 4546
٤٥٤٦ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن وابن سيرين قالا: (إذا) (١) صرف وجهه عن القبلة لم يبن ولم يسجد سجدتي السهو.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب اس نے اپنے چہرے کو قبلے سے پھیرلیا تو سجود سہو نہ کرے۔
حدیث نمبر: 4547
٤٥٤٧ - حدثنا شريك عن سلمة بن نبيط قال: قلت للضحاك: إني سهوت ولم أسجد قال: ههنا فاسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن نبی ط کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک سے سوال کیا کہ مجھے سہو ہوگیا اور میں نے سجدہ نہ کیا اب کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اب یہاں سجدہ کرلو۔
حدیث نمبر: 4548
٤٥٤٨ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن أبي معشر عن إبراهيم قال: هما عليه حتى يخرج أو يتكلم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سجودِ سہو اس وقت تک واجب رہتے ہیں جب تک مسجد سے نکل نہ جائے یا بات چیت نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 4549
٤٥٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن إبراهيم وعلي بن مدرك قالا: صلى بنا علقمة فصلى بنا (خمسا) (١) فلما سلم قالوا له: صليت خمسا فالتفت إلى رجل من القوم فقال: (كذلك) (٢) يا أعور؟ فقال: نعم، فسجد سجدتين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بن مدرک فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ہمیں نماز میں بھول کر پانچ رکعات پڑھادیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں۔ وہ لوگوں میں سے ایک کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے فرمایا کہ اے کانے ! کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ پھر حضرت علقمہ نے سہو کے دو سجدے کئے۔