کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں شک ہو جائے اور پتہ نہ چلے کہ کتنی نماز پڑھی ہے تو نماز کا اعادہ ہوگا
حدیث نمبر: 4485
٤٤٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين عن ابن عمر قال: أما أنا فإذا لم أدر كم صليت فإني أعيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم نہ ہوسکے کہ میں نے کتنی نماز پڑھ لی ہے تو میں دوبارہ نماز پڑھوں گا۔
حدیث نمبر: 4486
٤٤٨٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن سعيد بن جبير عن ابن عمر في الذي لا يدري ثلاثًا صلى أو أربعا قال: يعيد حتى يحفظ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں جسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ نماز پڑھے گا تاکہ اسے یاد رہ سکے۔
حدیث نمبر: 4487
٤٤٨٧ - حدثنا حفص عن عاصم عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز سے فارغ ہو اور اسے معلوم نہ ہوسکے کہ اس نے طاق عدد میں نماز پڑھی ہے یا جفت میں تو وہ نماز کا اعادہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 4488
٤٤٨٨ - (و) (١) عن أيوب عن سعيد بن جبير قالا: إذا صلى فانصرف فلم يدر (كم) (٢) صلى شفعا أو وترا فليعد.
حدیث نمبر: 4489
٤٤٨٩ - حدثنا عبدة عن عاصم عن الشعبي وعن أيوب عن سعيد بن جبير بنحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4490
٤٤٩٠ - حدثنا جرير عن منصور قال: سألت سعيد بن جبير عن الشك في الصلاة فقال: أما أنا فإذا كان في المكتوبة فإني أعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جسے نماز میں شک ہوجائے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ فرض نماز میں ایسا ہو تو میں دوبارہ نماز پڑھوں گا۔
حدیث نمبر: 4491
٤٤٩١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: رميت (الجمار) (١) فلم أدر بكم رميت فسألت ابن عمر فلم يجبني فمر ابن الحنفية فسألته فقال: (تعيد) (٢) (يا أبا عبد اللَّه) (٣) ليس شيء (عندنا (أعظم)) (٤) (٥) من الصلاة (وإذا) (٦) نسي أحدنا أعاد قال: فذكرت لابن عمر قوله فقال: إنهم أهل بيت (مفهمون) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ رمی جمار کرتے ہوئے مجھے یاد نہ رہا کہ میں نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔ چناچہ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں حضرت ابن الحنفیہ گذرے میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندے ! تم دوبارہ رمی کرو، ہمارے نزدیک نماز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، جب ہم میں سے کوئی نماز میں بھولتا ہے تو اس کا اعادہ کرتا ہے۔ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اہل بیت ہیں اور زیادہ سمجھنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 4492
٤٤٩٢ - حدثنا ابن نمير ووكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي (قال) (١): يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے فرمایا کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابو ضحی سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت شریح بھی نماز کا اعادہ کرنے کے قائل تھے۔
حدیث نمبر: 4493
٤٤٩٣ - فذكرته لأبي الضحى فقال: كان (شريح) (١) يقول: يعيد.
حدیث نمبر: 4494
٤٤٩٤ - حدثنا جرير عن ليث عن طاوس قال: إذا صليت فلم تدر (كم) (١) صليت فأعدها مرة فإن التبست (٢) عليك مرة أخرى فلا تعدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب نماز پڑھتے ہوئے معلوم نہ ہوسکے کہ تم نے کتنی نماز پڑھ لی ہے تو اسے ایک مرتبہ دہرا لو۔ اگر دوبارہ یہی معاملہ ہو تو دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 4495
٤٤٩٥ - حدثنا [ابن نمير ووكيع عن مالك عن (عطاء) (١) قال: يعيد] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ نماز کو دہرائے گا۔
حدیث نمبر: 4496
٤٤٩٦ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: يعيد مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دہرائے گا۔
حدیث نمبر: 4497
٤٤٩٧ - حدثنا كثير بن هشام عن فرات عن عبد الكريم وسعيد بن جبير وميمون أنهم كانوا إذا (وهموا) (١) في الصلاة أعادوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت میمون کو جب نماز میں وہم ہوتا تو نماز دہرایا کرتے تھے۔