کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4465
٤٤٦٥ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة (عن) (١) عبد اللَّه قال: صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة فزاد أو نقص فلما سلم وأقبل على القوم بوجهه قالوا: يا رسول اللَّه حدث في الصلاة شيء قال: "ومَا [ذاكَ؟ " (قالوا) (٢): صليت كذا وكذا، فثنى رجله فسجد سجدتين ثم سلم وأقبل على القوم بوجهه فقال: "إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيءٌ] (٣) أَنْبَأتكمْ بِهِ وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسُونَ فَإِذا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ (فَلْيَتَحَرَّ) (٤) الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيهِ فَإِذَا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی، اس میں اضافہ کردیا یا کمی فرمادی۔ جب آپ سلام پھیر کو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے پوچھا کیوں، کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسی ایسی نماز پڑھائی ہے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت اپنے قدموں کو موڑا اور دو سجدے فرمائے۔ پھر سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اگر نماز کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتاتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں، جیسے تم بھولتے ہو ایسے میں بھی بھول سکتا ہوں۔ جب میں نماز میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرادیا کرو۔ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی بھول چوک ہوجائے تو غور وفکر کرکے جو بات درست لگے اس پر عمل کرلے۔ پھر جب سلام پھیرے تو دو سجدے کرلے۔
حدیث نمبر: 4466
٤٤٦٦ - حدثنا أبو بكر (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول اللَّه ﷺ: "إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّك وَيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ رَكَعَ رَكعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتْين فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةَ كَانَتْ الرَّكْعَةُ وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتْ الرَّكْعَةُ تَمَاَمَ صَلَاتِه وَالسَّجْدَتَانِ (تُرْغِمَانِ) (٢) الشّيْطَانَ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے تو شک کو زائل کردے اور یقین پر عمل کرے۔ اگر اس کو نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو تو ایک رکعت پڑھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگئی تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل بن جائیں گے۔ اگر اس کی نماز نامکمل تھی تو اس رکعت کی وجہ سے مکمل ہوجائے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل کردیں گے۔
حدیث نمبر: 4467
٤٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع عن محمد بن قيس عن عون بن عبد اللَّه عن أبيه قال صليت مع عمر أربعا قبل الظهر في بيته وقال: إذا أوهمت فكن في زيادة (ولا) (٢) تكن في نقصان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضر ت عمر کے ساتھ ان کے کمرے میں ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں پڑھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تمہیں نماز کے بارے میں شک ہو تو زیادہ پڑھو کم نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 4468
٤٤٦٨ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن منصور عن الحكم قال: قال علي: إذا شك في الزيادة والنقصان فليصل ركعة فإن اللَّه لا يعذب على زيادة في الصلاة فإن كانت تماما كانت له وإن كانت زيادة كانت له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں نماز میں کمی یا زیادتی کے بارے میں شک ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ نماز پر عذاب نہیں دے گا۔ اگر نماز پوری نہ تھی تو اس رکعت کی وجہ سے پوری ہوجائے گی اور اگر یہ رکعت زیادہ ہوگئی تو اس کا اجر ہے۔
حدیث نمبر: 4469
٤٤٦٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا شككت فلم تدر أتممت أو لم تتم، فأتمم ما شككت فإن اللَّه لا يعذب على الزيادة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں شک ہوجائے کہ نماز پوری کی ہے یا نہیں تو جو شک ہے اسے پورا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ پڑھنے پر عذاب نہیں دے گا۔
حدیث نمبر: 4470
٤٤٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن (خصيف) (١) عن (أبي عبيدة عن عبد اللَّه) (٢) قال: إذا شك أحدكم في صلاته فليتحر أكثر (ظنه) (٣) فليبن عليه فإن كان أكثر (ظنه) (٤) أنه صلى ثلاثًا فليركع ركعة (ويسجد) (٥) سجدتين وإن كان (ظنه) (٦) أربعا فليسجد سجدتين (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کو نماز کی مقدار کے بارے میں شک ہوجائے تو غور و فکر کے بعد جو غالب گمان ہو اس پر عمل کرلے۔ اس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں تو ایک رکعت پڑھے اور سجدہ ٔ سہو کرے۔ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو آخر میں صرف سجودِ سہو کرلے۔
حدیث نمبر: 4471
٤٤٧١ - حدثنا حفص بن غياث عن الحجاج عن الحكم عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: يتحرى (ويسجد) (١) سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ غور وفکر کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
حدیث نمبر: 4472
٤٤٧٢ - حدثنا ابن عليه عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول: يتوخى الذي يرى أنه (١) نقص فيتمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اگر کمی کا خیال بھی آرہا ہے تو اسے پورا کرے گا۔
حدیث نمبر: 4473
٤٤٧٣ - حدثنا عبدة عن يحيى (بن سعيد) (١) عن سالم قال: إذا شك فلم يدر (أثلاثا) (٢) صلى أم أربعا فليرم بالشك (ويسجد) (٣) سجدتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو شک ہوگیا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک سے نجات حاصل کرلے اور سجودِ سہو کرے۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اس قول کا ذکر حضرت قاسم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں، میں بھی یہی کہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4474
٤٤٧٤ - (فذكرت) (١) ذلك للقاسم فقال: وأنا كذلك أقول (وأنا كذلك أقول) (٢).
حدیث نمبر: 4475
٤٤٧٥ - حدثنا زيد بن حباب (١) قال: حدثني مالك بن أنس عن عفيف بن عمرو السهمي عن عطاء بن يسار قال: سألت عبد اللَّه بن عمرو بن العاص وكعبا عن الذي يشك في صلاته صلى ثلاثًا أو أربعا فكلاهما قال: ليقم فليصل ركعة ثم يسجد سجدتين إذا صلى وهو جالس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضر ت کعب سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی کو اس بارے میں شک ہوجائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ کیا کرے ؟ دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ ایک رکعت پڑھے پھر آخر میں بیٹھ کر سجدہ ٔ سہو کرے۔
حدیث نمبر: 4476
٤٤٧٦ - حدثنا حفص عن ابن عون عن إبراهيم قال: (يتحرى) (ويسجد) (١) سجدتين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ غور وفکر کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
حدیث نمبر: 4477
٤٤٧٧ - حدثنا حفص عن يحيى عن سالم قال: يبني على ما يستيقن (قيل) (١) له: ويسجد سجدتين قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہں ا کہ جس چیز کا اسے یقین ہو اس پر بنا کرے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سجودِ سہو کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 4478
٤٤٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن مكحول أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الوَاحِدَةِ والثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلُهَا وَاحِدَةً حَتَّى يَكُونَ الوْهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَينِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَن يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ". قال محمد: قال لي: حسين بن عبد اللَّه هل أسند لك مكحول الحديث قال محمد: (ما) (١) سألته عن ذلك قال: فإنه ذكره عن ⦗٤٧٠⦘ كريب عن ابن عباس أن عمر وابن (عباس) (٢) (تدارآ) (٣) فيه فجاء عبد الرحمن بن عوف فقال: أنا سمعت من رسول اللَّه ﷺ هذا الحديث (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے کہ کتنی پڑھی ہے ۔ تو اگر اس کو ایک یا دو رکعتوں کے بارے میں شک ہوا ہے تو ایک رکعت اور پڑھ لے تاکہ وہم زیادتی میں تبدیل ہوجائے۔ پھر تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کرے، اس کے بعد سلام پھیرے۔ حضرت کریب کہتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اختلاف ہوگیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے آکر بتایا کہ میں نے حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
حدیث نمبر: 4479
٤٤٧٩ - حدثنا كثير بن هشام عن فرات عن عبد الكريم عن سعيد بن المسيب وأبي عبيدة أنهما كانا إذا وهما في صلاتهما فلم يدريا ثلاثًا صليا أم أربعا سجدا سجدتين قبل أن يسلما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم کہتے ہیں کہ اگر حضرت سعید بن مسیب اور حضرت ابو عبیدہ کو نماز کی مقدار کے بارے میں وہم ہوجاتا اور یہ اندازہ نہ ہوتا کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ دونوں سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4480
٤٤٨٠ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ العصر فسلم (من) (١) ثلاث ركعات، ثم دخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق، فقال: يا رسول اللَّه، فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر (رداءه) (٢) حتى انتهى إلى الناس فقال: "صدق هذا؟ " (قالوا) (٣): نعم، فصلى تلك الركعة، ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلّم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔ ایک آدمی جنہیں خرباق کہا جاتا تھا وہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! آپ نے آج یوں کیا ہے۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے سے چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں کے پاس پہنچ کر فرمایا کہ کیا یہ ٹھیک کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر آپ نے وہ رکعت پڑھائی پھر سلام پھیر کردو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 4481
٤٤٨١ - حدثنا ابن نمير عن سعيد عن قتادة عن أنس والحسن قالا: ينتهي إلى آخر وهمه ثم يسجد سجدتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس اور حسن فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آخری وہم پر عمل کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
حدیث نمبر: 4482
٤٤٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محارب بن دثار قال: سمعت ابن عمر يقول: احص ما استطعت ولا تُعِدْ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے شمار کرو اور نماز کا اعادہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 4483
٤٤٨٣ - حدثنا ابن علية عن عبد العريز بن صهيب أن أنس بن مالك قعد في الركعة (الثالثة) (١) فسبحوا به (فقام) (٢) فأتمهن أربعا فلما سلّم سجد سجدتين ثم أقبل على القوم بوجهه فقال: إذا (وهمتم) فاصنعوا هكذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے تیسری رکعت میں قعدہ کردیا تو لوگوں نے پیچھے سے تسبیح کہی۔ وہ کھڑے ہوئے اور چوتھی رکعت مکمل فرمائی۔ جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تمہیں وہم ہوجائے تو یوں کرو۔
حدیث نمبر: 4484
٤٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن يحيى (عن) (٢) أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إِذَا لَمْ يَدْرِ أَزادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہیں نماز کی مقدار بھول جائے تو تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سہو کے دو سجدے کرو۔