کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یک آدمی نماز کا سجدہ تلاوت کرنا بھول جائے اور اسے دوسری نماز میں یاد آئے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4461
٤٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل نسي سجدة من (أول) (٢) صلاته فلم يذكرها حتى كان في آخر ركعة من صلاته قال: يسجد فيها ثلاث سجدات فإن لم يذكرها حتى يقضي صلاته غير أنه لم يسلم بعد، قال: يسجد سجدة واحدة ما لم يتكلم فإن تكلم استأنف الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نماز کے شروع میں سجدہ تلاوت کرنا بھول جائے اور اسے نماز کی دوسری رکعت میں یاد آئے تو اس رکعت میں وہ تین سجدے کرے۔ اگر نماز پوری کرنے کے بعد یاد آئے تو گفتگو کرنے سے پہلے ایک سجدہ کرلے اور اگر گفتگو کرنے کے بعد یاد آئے تو نئے سرے سے نماز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 4462
٤٤٦٢ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: إذا نسي الرجل سجدة من الصلاة فليسجدها متى ما ذكرها في صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کو نماز میں سجدہ کرنا بھول جائے تو نماز میں جب بھی یاد آئے سجدہ کرلے۔
حدیث نمبر: 4463
٤٤٦٣ - حدثنا معتمر عن ليث عن مجاهد في الرجل يشك في سجدة وهو جالس لا يدري (سجدها) (١) أم لا قال مجاهد: إن شئت فاسجدها (فإذا قضيت صلاتك فاسجد سجدتين وأنت جالس) (٢) وإن شئت فلا تسجدها وأسجد سجدتين وأنت جالس في آخر صلاتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کو اس بارے میں شک ہوجاتا ہے کہ اس نے سجدہ کیا یا نہیں، اب وہ بیٹھا ہوا ہے تو کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو سجدہ کرلو پھر جب نماز مکمل کرچکو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے سہو کے کرلو۔ اور اگر تم چاہو تو سجدہ نہ کرو اور نماز کے آخر میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلو۔