کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر امام ایسی سورت پڑھے جس میں آیت سجدہ ہے اور وہ سجدہ نہ کرے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہئے ا
حدیث نمبر: 4458
٤٤٥٨ - [حدثنا وكيع عن أبي خلدة قال: قلت لأبي العالية: صليت في مسجد بني فلان فقرأ إمامهم السجدة فلم يسجد؟ قال: أفلا سجدت؟] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو العالیہ کو بتایا کہ میں نے فلاں لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھی ہے، ان کے امام نے آیت سجدہ کی تلاوت کی لیکن سجدہ نہیں کیا۔ حضرت ابوا لعالیہ نے فرمایا کہ تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟
حدیث نمبر: 4459
٤٤٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم أنه سمع (عبد الرحمن) (٢) الأعرج يقول: كان أبو هريرة يسجد في ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾، فإذا قرئت وكان خلف الإمام فلما يسجد الإمام (قال) (٣): فيومئ برأسه أبو هريرة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن اعرج کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ سورة الانشقاق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ اگر وہ کسی کے پھے رت نماز پڑھتے اور امام سورة الانشقاق کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ نہ کرتا تو حضرت ابوہریرہ سر کو جھکا کر اشارہ کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4460
٤٤٦٠ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن أبي عمرو مولى المطلب (أنه) (١) حدثهم قال: إني لقاعد مع ابن عمر يوم الجمعة إلى حجرة عائشة وطارق يخطب الناس على المنبر (وقرأ: والنجم) (٢) فلما فرغ وقع ابن عمر ساجدا وسجدنا معه وما يتحرك الآخر (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمر مولی المطلب فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا۔ حضرت طارق لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے سورة النجم کی تلاوت کی۔ اسے سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ اور اس بدنصیب (طارق خطیب) نے کوئی حرکت نہ کی۔