حدیث نمبر: 4447
٤٤٤٧ - حدثنا (١) أبو بكر قال: (نا) (٢) شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: قرأ النبي ﷺ في صلاة مكتوبة سجدة ثم سجد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نماز میں آیت سجدہ پڑھی پھر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4448
٤٤٤٨ - حدثنا معتمر (بن سليمان) (١) عن أبيه قال: بلغني عن أبي مجلز أن النبي ﷺ قرأ في صلاة الظهر (سجدة) (٢) فسجد (فرأوا) (٣) أنه قرأ (آلم تنزيل) السجدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز میں آیت سجدہ پڑھی، پھر سجدہ کیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے الم تنزیل السجدۃ پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 4449
٤٤٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال (أخبرنا) (١) التيمي عن أبي مجلز عن ابن عمر عن النبي ﷺ بمثله قال: ولم (يسمعه التيمي) (٢) من أبي مجلز (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4450
٤٤٥٠ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن إياس (بن) (١) دغفل عن أبي (حكيمة) (٢) أن ابن عمر صلى بأصحابه الظهر فسجد فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حکیمہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے ساتھیوں کو ظہر کی نما زپڑھائی اور اس میں سجدہ تلاوت کیا۔
حدیث نمبر: 4451
٤٤٥١ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن بكر قال أخبرني من رأى ابن الزبير في حائط من حيطان مكة (قال) (١): فصلى العصر أو الظهر قال: فسجد فقال له رجل: إنك صليت خمس ركعات فقال: إني قرأت (بسورة فيها) (٢) سجدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن زبیر کو مکہ میں دیکھا کہ انہوں نے عصر یا ظہر کی نماز پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ نماز کے بعد کسی آدمی نے ان سے کہا کہ آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں میں نے ایک سورت پڑھی تھی جس میں سجدۂ تلاوت تھا۔
حدیث نمبر: 4452
٤٤٥٢ - حدثنا وكيع (والفضل) (١) بن دكين عن أبي هلال عن أنس بن سيرين أن ابن مسعود قرأ في الظهر (الم تنزيل) السجدة وفي (الأخرى) (٢) بسورة من المثاني (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ظہر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل السجدۃ دوسری رکعت میں مثانی میں سے کوئی سور ت پڑھی۔
حدیث نمبر: 4453
٤٤٥٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال كان يقال: لا (تقرأ) (١) السجدة في شيء من المكتوبة إلا في صلاة الفجر وكان إبراهيم يستحب يوم الجمعة أن يقرأ بسورة فيها سجدة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ سوائے فجر کے کسی فرض نماز میں آیت سجدہ نہ پڑھو۔ ابراہیم جمعہ کے دن اس بات کو مستحب خیال فرماتے تھے کہ کوئی ایسی سور ت پڑھی جائے جس میں سجدۂ تلاوت ہو۔
حدیث نمبر: 4454
٤٤٥٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمران (بن حدير) (١) عن أبي مجلز أنه كان لا يسجد في صلاة مكتوبة ويقول: أكره أن أزيد في صلاة مكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرض میں سجدہ تلاوت نہ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں فرض نماز میں کوئی اضافہ کروں۔