حدیث نمبر: 4434
٤٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال نا هشيم قال (أخبرنا) (١) خالد عن أبي العالية عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول في سجود القرآن: "سَجَدَ وَجْهِي لِلّذِي خَلَقَه (وَصَوَّرَهُ) (٢) وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ (بحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے : میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعہ اسے پیدا کیا، اسے صورت بخشی اور اسے سماعت و بصارت سے سرفراز فرمایا۔
حدیث نمبر: 4435
٤٤٣٥ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) مغيرة عن زياد (بن) (٢) الحصين عن ابن عمر أنه كان يقول في سجوده: اللهم لك سجد سوادي وبك آمن فؤادي اللهم ⦗٤٥٨⦘ ارزقني علما ينفعني وعملا يرفعني (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سجود تلاوت میں یہ کہا کرتے تھے : اے اللہ ! میرے چہرے نے تیرے لئے سجدہ کیا، میرا دل تجھ پر ایمان لایا، اے اللہ ! مجھے ایسا علم عطا فرما جو فائدہ دینے والا ہو اور مجھے ایسا عمل عطا فرما جو میرے درجات کو بلند کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 4436
٤٤٣٦ - حدثنا ابن علية عن خالد عن رجل عن أبي العالية عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول في سجود القرآن بالليل في السجدة مرارا: "سَجَدَ وَجْهِي لِمَنْ خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بحَوْلِهِ (وَقُوَّتِهِ) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے : میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت و بصارت سے سرفراز فرمایا۔
حدیث نمبر: 4437
٤٤٣٧ - حدثنا ابن عليه عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة أنه كان يقول إذا قرأ السجدة: سبحان، ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا سبحان اللَّه وبحمده (سبحان (١) اللَّه وبحمده) ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی عروبہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ جب یہ آیت پڑھتے { سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً } تو سجدہ کرتے اور اس سجدے میں تین مرتبہ یہ کلمات کہتے : پاک ہے اللہ اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 4438
٤٤٣٨ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا أنا بشيخين يقرأ أحدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا أحدهما قيس بن سكن الأسدي والآخر يقرأ عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس: دعها فإنا نكره أن (يرانا) (٢) أهل المسجد فتركها وقرأ ما بعدها ثم قال قيس: واللَّه ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقرأها فقرأها فسجدنا فلما رفعنا رؤوسنا قال له قيس: تدري ما كان رسول اللَّه ﷺ يقول إذا سجد؟ قال: نعم كان يقول: "سَجَدَ وَجْهِي لِمَنْ خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرهُ"، قال: صدقت وبلغني أن داود ﵇ (٣) كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان اللَّه ما ⦗٤٥٩⦘ أشبه كلام الأنبياء بعضهم (ببعض) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور ہم نے سجدہ کیا۔ جب ہم نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت قیس نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ تلاوت کرتے تھے تو کیا کہتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں، رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہتے تھے : میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت وبصار ت سے سرفراز فرمایا۔ حضر ت قیس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضر ت داؤد اپنے سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے : میرے چہرے نے مٹی میں لپٹتے ہوئے میرے خالق کو سجدہ کیا اور اس کا حق کے لئے وہ اس ذات کو سجدہ کرے۔ پھر فرمایا کہ سبحان اللہ ! انبیاء کا کلام ایک دوسرے کے کتنا مشابہ ہے۔
حدیث نمبر: 4439
٤٤٣٩ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن إبراهيم قال: قرأ عبد اللَّه السجدة فسجد (قال) (١) (إبراهيم) (٢): فحدثني من سمعه يقول في سجوده: لبيك وسعديك والخير في يديك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عبداللہ اپنے سجدوں میں یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں سعادت سمجھ کر حاضر ہوں اور ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4440
٤٤٤٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي (أن) (١) إبراهيم لبَّى وهو ساجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ابراہیم سجدۂ تلاوت میں لبیک کہا کرتے تھے۔