حدیث نمبر: 4427
٤٤٢٧ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن أبي إسحاق أن علقمة والأسود ومسروقا وعمرو بن (شرحبيل) (١) كانوا يقولون: إذا كانت السجدة آخر السورة أجزأك أن تركع بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ، حضرت اسود، حضرت مسروق اور حضرت عمرو بن شرحبیل فرمایا کرتے تھے کہ اگر سجدہ سورت کے آخر میں ہو تو رکوع کرنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 4428
٤٤٢٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: (إذا) (١) كان في آخر السورة (سجدة) (٢) أجزاك أن تركع بها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب سجدہ سورت کے آخر میں ہو تو تمہارے لئے رکوع کرنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 4429
٤٤٢٩ - حدثنا معتمر عن معمر عن (ابن) (١) طاوس عن أبيه أنه كان يقرأ في العشاء الآخرة تنزيل السجدة فيركع بالسجدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس فرماتے ہیں کہ حضرت طاوس عشاء کی نماز میں سورة تنزیل السجدہ پڑھتے اور سجدے کی جگہ رکوع کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4430
٤٤٣٠ - حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سمعت الشعبي وسئل عن الرجل يقرأ بالسجدة فتكون في آخر (السورة) (١) فقال: (إن) (٢) هو سجد بها قام (فقرأ) (٣) بعدها وإن شاء أن يركع بها ركع بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ایسی سورت پڑھے جس کے آخر میں سجدۂ تلاوت ہو تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر چاہے تو سجدہ کرے اور کھڑا ہوکر اس کے بعد کی قراءت کرے اور اگر چاہے تو رکوع کرلے۔
حدیث نمبر: 4431
٤٤٣١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: (حدثني) (١) عتبة بن قيس عن مجاهد أنه كان يقرأ السجدة في بني إسرائيل وما بعدها ثم يركع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد سورة بنی اسرائیل کی آیت سجدہ اور اس کے بعد کا کچھ حصہ پڑھا کرتے تھے اور پھر رکوع کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4432
٤٤٣٢ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل (عن أبي إسحاق) (١) عن عمرو ابن ميمون عن الربيع بن (خثيم) (٢) قال: إذا كانت السجدة آخر السورة فإن شئت فاركع وإن شئت فاسجد فإن الركعة مع السجدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ اگر سجدہ سورت کے آخر میں ہو تو اگر تم چاہو تو رکوع کرلو اور اگر چاہو تو سجدہ کرلو۔ کیونکہ رکوع سجدے کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 4433
٤٤٣٣ - حدثنا ابن نمير ووكيع (قالا) (١): حدثنا سفيان عن أشعث بن أبي ⦗٤٥٧⦘ الشعثاء (٢) عن عبد الرحمن بن يزيد قال: سألنا عبد اللَّه عن السورة تكون في آخرها سجدة أيركع أو يسجد (قال) (٣): إذا لم يكن بينك وبين السجدة إلا الركوع فهو قريب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی آیتِ سجدہ سورت کے آخر میں ہو تو وہ رکوع کرے گا یا سجدہ ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہارے اور سجدے کے درمیان صرف رکوع ہے تو رکوع زیادہ بہتر ہے۔