حدیث نمبر: 4059
٤٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن داود بن قيس عن زيد بن أسلم قال: كان المسجد يرش ويقم على عهد رسول اللَّه ﷺ وأبي بكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے دور میں مسجد میں پانی چھڑکا جاتا اور جھاڑو پھیری جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 4060
٤٠٦٠ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) كثير بن زيد عن المطلب بن عبد اللَّه بن حنطب: أن عمر بن الخطاب أتى مسجد قباء على فرس له فصلى فيه ثم قال: ⦗٣٨١⦘ يا (يرفأ) (٢) آتني بجريدة، قال: فأتاه بجريدة فاحتجز عمر بثوبه ثم كنسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد المطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ حضرت عمر اپنے گھوڑے پر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھی۔ پھر اپنے غلام سے فرمایا اے یرفأ! جھاڑو لاؤ۔ وہ جھاڑو لے آئے تو حضرت عمر نے اپنے کپڑوں کو سمیٹ کرمسجد میں جھاڑو دی۔
حدیث نمبر: 4061
٤٠٦١ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو عاصم الثقفي قال: كنت مع الشعبي في المسجد فجعل يتطأطأ فقلت: ما تصنع يا أبا عمرو؟ قال: ألتقط القصبة و (الحشاشة) (١) والشيء من المسجد، قال: وكان أبو عاصم مكفوفا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عاصم ثقفی کہتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے ساتھ مسجد میں تھا، وہ سر جھکا کر کچھ کرنے لگے۔ میں نے پوچھا اے ابو عمرو ! آپ کیا کررہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں لکڑی کے ٹکڑے، حشرات اور دوسری چیزیں اٹھا رہا ہوں اور ابوعاصم نابناو تھے۔
حدیث نمبر: 4062
٤٠٦٢ - حدثنا وكيع عن عكرمة (بن) (١) عمار قال: رأيت سالما كنس مكانا ثم صلى فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو دیکھا کہ انہوں نے ایک جگہ جھاڑو دی پھر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4063
٤٠٦٣ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن يعقوب بن زيد: أن النبي ﷺ كان يتبع غبار المسجد بجريدة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعقوب بن زید فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جھاڑو سے مسجد کا غبار جھاڑ دیا کرتے تھے۔