حدیث نمبر: 3950
٣٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: إذا ضحك الرجل في الصلاة أعاد الصلاة، ولم يعد الوضوء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز میں ہنسا تو وہ نماز کو لوٹائے گا لیکن وضو کو نہیں لوٹائے گا۔
حدیث نمبر: 3951
٣٩٥١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم قال: ضحكت خلف أبي وأنا في الصلاة فأمرني أن أعيد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ میں نماز میں اپنے والد کے پیچھے ہنسا تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں دوبارہ نماز پڑھوں۔
حدیث نمبر: 3952
٣٩٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم قال: ضحكت وأنا أصلي مع أبي فأمرني أن أعيد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ میں نماز میں اپنے والد کے پیچھے ہنسا تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں دوبارہ نماز پڑھوں۔
حدیث نمبر: 3953
٣٩٥٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي خالد عن الشعبي قال: يعيد الصلاة ولا يعيد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ نماز کو لوٹائے گا لیکن وضو دوبارہ نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 3954
٣٩٥٤ - حدثنا أبو داود عن حماد بن سلمة عن هشام قال: ضحك أخي في الصلاة فأمره عروة أن يعيد الصلاة، ولم يأمره أن يعيد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرا بھائی نماز میں ہنسا تو حضرت عروہ نے اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا لیکن دوبارہ وضو کانہ کہا۔
حدیث نمبر: 3955
٣٩٥٥ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يضحك في الصلاة قال: إن تبسم فلا ينصرف، وإن قهقه استقبل الصلاة وليس عليه وضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک کہتے ہیں کہ حضرت عطاء سے نماز میں ہنسنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مسکرایا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اگر قہقہہ لگایا ہے تو دوبارہ نماز پڑھے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 3956
٣٩٥٦ - حدثنا الفضل (بن دكين) (١) عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كانوا في سفر، فصلى بهم أبو موسى، فسقط رجل أعور في (بئر) (٢) أو شيء، فضحك القوم كلهم غير أبي موسى والأحنف، فأمرهم أن يعيدوا الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سفر میں تھے، حضرت ابو موسیٰ نے ہمیں نماز پڑھائی، ایک کانا آدمی کسی گڑھے وغیرہ میں گرگیا تو حضرت ابو موسیٰ اور حضرت احنف کے سوا سب لوگ ہنس پڑے، حضرت ابو موسیٰ نے ان سب کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3957
٣٩٥٧ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانوا (يأمروننا) (١) ونحن صبيان إذا ضحكنا في الصلاة أن نعيد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب ہم بچپن میں نماز میں ہنستے تھے اور اسلاف ہمیں دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3958
٣٩٥٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن مجالد عن الشعبي في الرجل يضحك في الصلاة قال: يكبر ويعيد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی ا س شخص کے بارے میں جو نماز میں ہنسے فرماتے ہیں کہ وہ تکبیر کہے اور دوبارہ نماز پڑھے۔