حدیث نمبر: 3711
٣٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن مسعر عن أبي العلاء عن يحيى بن جعدة عن أم هانيء (قالت) (١): كنت أسمع قراءة النبي ﷺ وأنا على (عرشي) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کو سنا کرتی تھی، حالانکہ میں اپنی چھت پر ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3712
٣٧١٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: قالوا له: كيف كانت قراءة عبد اللَّه بالليل؟ فقال: كان يسمع أحيانا (آل) (١) عتبة، قال: وكانوا في ⦗٣٠٧⦘ حجرة بين يديه، وكان علقمة ممن (يبايته) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علقمہ سے پوچھا کہ رات کی نماز میں حضرت عبد اللہ کی قراءت کیسی ہوتی تھی ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بعض اوقات آل عتبہ کو بھی قراءت سنایا کرتے تھے۔ حضر ت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ ان کے سامنے والے حجرہ میں ہوتے تھے اور حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ کے ان شاگردوں میں سے تھے جو رات ان کے ساتھ گذارا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3713
٣٧١٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: بت عند عبد اللَّه ذات ليلة فقالوا له: كيف كانت قراءته؟ قال: (كان) (١) يسمع أهل الدار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت عبد اللہ کے ساتھ تھا۔ لوگوں نے حضرت علقمہ سے پوچھا کہ ان کی قرائت کیسی ہوتی تھی ؟ حضرت علقمہ نے فرمایا کہ وہ گھر والوں کو بھی سنایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3714
٣٧١٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن (حبان) (١) قال: كان رجل إذا قرأ جهر بقراءته، ففقده معاذ فقال: أين الذي كان يوقظ (الوسنان) (٢)، ويزجر أو يطرد الشيطان؟ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ ایک آدمی تہجد کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ نظر نہ آیا تو حضرت معاذ نے فرمایا کہ وہ کہاں گیا جو غافلوں کو جگایا کرتا تھا اور شیطان کو بھگایا کرتا تھا ؟
حدیث نمبر: 3715
٣٧١٥ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن عمرو قال: باتت بنا عمرة ليلة فقمت أصلي فأخفيت صوتي فقالت: ألا تجهر بقراءتك؟! فما كان يوقظنا إلا صوت معاذ القارئ، وأفلح مولى أبي أيوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک دن رات میں حضرت عمرہ ہماری مہمان تھیں، میں رات کو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور میں نے آہستہ آواز سے قراءت کی تو انہوں نے فرمایا کہ تم اونچی آواز سے قراءت کیوں نہیں کرتے ؟ ہمیں معاذ القاری اور افلح مولی ابی ایوب کی قراءت بیدار کیا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 3716
٣٧١٦ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي حرة عن الحسن: أنه كان يصلي من الليل فيسمع أهل داره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ حسن تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے اتنی بلند آواز سے قراءت کرتے تھے کہ اپنے گھر والوں کو سناتے تھے۔
حدیث نمبر: 3717
٣٧١٧ - حدثنا شريك عن عبد الكريم عن أبي عبيدة قال: صلاة الليل تُسمع أذنيك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ رات کی نماز میں تمہارے کانوں تک تمہاری قراءت پہنچنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 3718
٣٧١٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن علقمة قال: صليت مع عبد اللَّه ليلة كلها، فكان يرفع صوته يقرأ قراءة يسمع أهل المسجد، (يرتل) (١) ولا يرجع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پوری رات حضرت عبد اللہ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ اتنی بلند آواز سے قراءت کرتے کہ مسجد والے سنا کرتے تھے۔ وہ ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے اور بار بار پیچھے سے نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3719
٣٧١٩ - حدثنا حفص عن الأعمش والحسن بن عبيد اللَّه عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال قال: قال عبد اللَّه: من أسمع أذنيه فلم يخافت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے کانوں کو اپنی تلاوت سنا دی اس نے آہستہ آواز سے قراءت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 3720
٣٧٢٠ - حدثنا حفص عن عمران بن زائدة بن نشيط (١) عن أبيه عن أبي خالد الوالبي (٢) عن أبي هريرة قال: كان النبي ﷺ إذا قام من الليل يخفض (٣) طورا ويرفع طورا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تو کبھی آہستہ آواز سے قراءت فرماتے اور کبھی اونچی آواز سے۔