کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور جو حضرات فرماتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کسی اور جگہ سے پڑھنا بھی ضروری ہے
حدیث نمبر: 3656
٣٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) سفيان بن عيينة عن الزهري عن محمود ابن الربيع عن عبادة بن الصامت يبلغ به النبي ﷺ أنه قال: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرأَ بِفَاتِحَةِ الْكتَابِ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے سورة الفاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 3657
٣٦٥٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن جريج عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب: أن أبا السائب أخبره: أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجُ هِيَ خِدَاجُ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں سورة الفاتحہ نہ پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے۔
حدیث نمبر: 3658
٣٦٥٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد ابن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن عائشة عن النبي ﷺ قال: "كُلَّ صَلَاةٍ لَا يُقرَأُ فِيهَا ⦗٢٩٦⦘ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ نماز جس میں سورة الفاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے۔
حدیث نمبر: 3659
٣٦٥٩ - حدثنا ابن علية عن الوليد بن أبي هشام عن وهب بن كيسان قال: قال جابر بن عبد اللَّه: من لم يقرأ في كل ركعة بأم القرآن (فلا) (١) يصل إلا (خلف الإمام) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے ہر رکعت میں سورة الفاتحہ نہ پڑھی اس نے گویا نماز ہی نہیں پڑھی۔ البتہ امام کے پیچھے پڑھنا ضروری نہیں۔
حدیث نمبر: 3660
٣٦٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن علية عن الجريري عن ابن بريدة عن عمران بن حصين قال: لا تجوز صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وآيتين فصاعدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ وہ نماز جائز نہیں جس میں سورة الفاتحہ اور اس سے زیادہ دو آیات نہ پڑھی جائیں۔
حدیث نمبر: 3661
٣٦٦١ - حدثنا ابن علية عن سعيد بن يزيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد: في كل صلاة قراءة قرآن أم الكتاب فما زاد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت ہے، اور وہ سورة الفاتحہ یا اس سے کچھ زائد ہے۔
حدیث نمبر: 3662
٣٦٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن (عباية) (١) بن ربعي قال: قال عمر: لا تجزيء صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وآيتين فصاعدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ نماز جائز نہیں جس میں سورة الفاتحہ اور اس زیادہ دو آیات نہ پڑھی جائیں۔
حدیث نمبر: 3663
٣٦٦٣ - حدثنا ابن علية عن خالد عن عبد اللَّه بن الحارث قال: جلست إلى رهط من أصحاب النبي ﷺ من الأنصار فذكروا الصلاة وقالوا: لا صلاة إلا بقراءة، ولو بأم الكتاب. قال خالد: فقلت لعبد اللَّه بن الحارث: هل (تسمي) (١) أحدا منهم؟ قال: نعم، خوّات بن جبير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں کچھ انصاری صحابہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ انہوں نے نماز کا ذکر کیا اور کہا کہ قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی خواہ آدمی سورة الفاتحہ کی ہی تلاوت کرلے لیکن کرنی ہوگی۔ راوی حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن حارث سے کہا کہ کیا آپ ان میں سے کسی کا نام بتاسکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، خوات بن جبیر۔
حدیث نمبر: 3664
٣٦٦٤ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: إذا لم يقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب فإنه يعيد تلك الركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس رکعت میں سورة الفاتحہ نہ پڑھی گئی اس رکعت کو لوٹایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3665
٣٦٦٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن العلاء بن المسيب عن محمد بن الحكم: أن أبا وائل قرأ بفاتحة الكتاب وآية، ثم ركع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل نے سورة الفاتحہ اور ایک آیت کی تلاوت کی، پھر رکوع کیا۔
حدیث نمبر: 3666
٣٦٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عطاء عن أبي هريرة قال: تجزيء فاتحة الكتاب (قال) (١): فلقيته (بعد) (٢)، فقلت: في الفريضة؟ فقال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ سورة الفاتحہ کافی ہے۔ میں بعد میں ان سے ملا اور میں نے پوچھا کیا فرض میں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حدیث نمبر: 3667
٣٦٦٧ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن المغيرة عن إبراهيم قال: تجزيء فاتحة الكتاب في الفريضة وغيرها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ فرض اور غیرفرض دونوں میں سورة الفاتحہ کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3668
٣٦٦٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي العالية البرّاء قال: قلت لابن عمر: أفي كل ركعة أقرأ؟ فقال: إني لأستحي من رب هذا البيت أن لا أقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب، وما تيسر. وسألت ابن عباس فقال: هو إمامك، فإن شئت فأقل منه، وإن شئت فأكثر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ براء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ کیا میں ہر رکعت میں قراءت کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس گھر کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ہر رکعت میں سورة الفاتحہ اور اس کے بعد جو آسان لگے اس کی تلاوت نہ کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تمہاری مرضی ہے، چاہو تو اس سے کم تلاوت کرو اور چاہو تو اس سے زیادہ کرلو۔
حدیث نمبر: 3669
٣٦٦٩ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن الوليد بن يحيى عن جابر بن زيد: أنه قرأ: ﴿مُدْهَامَّتَانِ﴾ [الرحمن: ٦٤] ثم ركع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن یحییٰ کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید نے { مُدْہَامَّتَانِ } کہا اور رکوع کرلیا۔
حدیث نمبر: 3670
٣٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن أبي سفيان السعدي عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكعَةٍ بـ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾، وَسُورَةٍ فِي الْفَرِيضَةِ وَغَيْرِهَا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوئی جس نے فرض اور غیر فرض میں سورة الفاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت نہ پڑھی۔
حدیث نمبر: 3671
٣٦٧١ - حدثنا وكيع (عن مسعر) (١) عن (يزيد) (٢) الفقير عن جابر قال: كنا نتحدث أنه لا صلاة إلا بقراءة فاتحة الكتاب فما زاد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم یہ بیان کیا کرتے تھے کہ جو شخص سورة الفاتحہ اور اس سے کچھ زیادہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3672
٣٦٧٢ - حدثنا وكيع عن حسن عن ليث عن مجاهد قال: تجزيء فاتحة الكتاب في التطوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نفل نماز میں سورة الفاتحہ کا پڑھنا کافی ہے۔