کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے اس بات کی رخصت دی ہے کہ آدمی بغیر نماز پڑھے بھی مسجد میں سے گذر سکتا ہے
حدیث نمبر: 3463
٣٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد العزيز بن (محمد) (٢) الدراوردي عن زيد بن أسلم قال: كان أصحاب النبي ﷺ يدخلون المسجد ثم يخرجون ولا يصلون، (قال) (٣): ورأيت ابن عمر يفعله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ مسجد میں داخل ہوتے پھر نکل جاتے تھے لیکن نماز نہیں پڑھتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یونہی کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 3464
٣٤٦٤ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن سعيد بن أبي هند عن نافع: أن ابن عمر كان يمر في المسجد ولا يصلي فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے گذر جاتے تھے اور نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3465
٣٤٦٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن ابن عون قال: مررت مع الشعبي في مسجد الكوفة فقلت له: ألا تصلي؟ (فقال) (١): إذن (و) (٢) ربي لا نزال نصلي.
مولانا محمد اویس سرور
٩) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے ساتھ کوفہ کی مسجد سے گذرا، میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے رب کی قسم ! اس طرح تو ہم نماز ہی پڑھتے رہیں گے !
حدیث نمبر: 3466
٣٤٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن حنش قال: رأيت سويد بن غفلة يمر في مسجدنا فربما صلى، وربما لم يصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سوید بن غفلہ کو دیکھا کہ وہ ہماری مسجد سے گذرتے تھے اور کبھی نماز پڑھتے تھے کبھی نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3467
٣٤٦٧ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالما يدخل من المسجد حتى يخرج من الخوخة فلا يصلي فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے سالم کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور کھڑکی کی طرف سے نکل گئے لیکن انہوں نے مسجد میں نماز نہ پڑھی۔