کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3384
٣٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء، وصلاة الفجر، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا، ولقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام، ثم آمر رجلا فيصلي بالناس، ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منافقین پر سب سے بھاری نماز فجر اور عشاء کی نماز ہے۔ اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور فجر میں کیا ثواب ہے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آئیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں پھر کسی سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے پھر میں کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں نہیں پہنچتے، پھر ان کے گھروں کو جلا دوں۔
حدیث نمبر: 3385
٣٣٨٥ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن العيزار بن (حريث) (٢) عن أبي (بصير) (٣) قال: قال أبي بن كعب: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ فلما قضى الصلاة رأى من أهل المسجد قلة قال: "شاهد فلان"، قلنا: نعم؛ حتى عد ثلاثة نفر، فقال: "إنه ليس من صلاة أثقل على المنافقين من صلاة العشاء الآخرة، ومن ⦗٢٢٩⦘ صلاة الفجر، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو مسجد میں لوگوں کی کچھ کمی دیکھی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ فلاں حاضر ہے ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ یہاں تک کہ آپ نے تین آدمیوں کا نام لیا۔ پھر فرمایا کہ منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے زیادہ بوجھل نماز کوئی نہیں۔ اگر وہ اس کا ثواب جان لیں تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر مسجد میں آئیں۔
حدیث نمبر: 3386
٣٣٨٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن نافع عن ابن عمر قال: كنا إذا فقدنا الرجل في صلاة العشاء وصلاة الفجر أسأنا به الظن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی آدمی کو عشاء یا فجر کی نماز میں نہ دیکھتے تو اس کے بارے میں برا گمان رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3387
٣٣٨٧ - حدثنا شبابة قال: حدثنا (١) شعبة عن أبي بشر عن أبي عمير بن أنس قال: حدثني عمومتي من الأنصار قالوا: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما يشهدهما منافق، يعني: العشاء والفجر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیر بن انس کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے انصاری چچا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عشاء اور فجر کی نماز میں منافق نہیں آتے۔
حدیث نمبر: 3388
٣٣٨٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت ابن أبي ليلى عن أبي الدرداء: أنه قال في مرضه الذي مات فيه: ألا احملوني، قال: فحملوه فأخرجوه، فقال: اسمعوا وبلغوا من خلفكم: حافظوا على هاتين الصلاتين العشاء والصبح، ولو تعلمون ما فيهما لأتيتموهما ولو حبوًا على مرافقكم وركبكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ کیا تم مجھے یہاں سے اٹھاتے نہیں ہو۔ چناچہ لوگوں نے انہیں اٹھایا اور انہیں نکالا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ غور سے سنو اور اپنے بعد میں آنے والوں کو بھی بتاؤ ” ان دونوں نمازوں کا خیال رکھو : عشاء اور صبح، اگر تم جان لو کہ ان دونوں نمازوں میں کیا ہے تو گھٹنوں اور کہنیوں کے بل چل کر تم ان نمازوں کے لئے آؤ۔
حدیث نمبر: 3389
٣٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبيد اللَّه بن موسى قال: (أنا) (٢) شيبان عن يحيى عن محمد بن إبراهيم عن يحنس (٣): أن عائشة أخبرته: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لو أن الناس يعلمون ما في فضل صلاة العشاء وصلاة الصبح لأتوهما ولو حبوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا ہے تو گھٹنوں کے بل چل کر ان کے لئے مسجد میں حاضر ہوں۔
حدیث نمبر: 3390
٣٣٩٠ - حدثنا عبدة عن (محمد بن عمرو عن) (١) محمد بن إبراهيم التيمي (عن أبي عمرة) (٢) الأنصاري قال: جئت وعثمان (جالس) (٣) في المسجد صلاة العشاء الآخرة، فجلست إليه، فقال عثمان: شهود صلاة الصبح كقيام (ليلة) (٤) وصلاة العشاء كقيام نصف ليلة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں کہ میں مسجد میں حاضر ہوا تو حضرت عثمان عشاء کی نماز کے وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ فجر کی نماز میں حاضر ہونا پوری رات عبادت کی طرح ہے اور عشاء کی نماز میں حاضر ہونا آدھی رات عبادت کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 3391
٣٣٩١ - حدثنا شبابة عن شعبة عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن عن عمر قال: لأن أصليهما في جماعة أحب إليَّ من أن أحيي ما بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں فجر اور عشاء کی نماز کو جماعت سے پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ ان دونوں کے درمیانی حصہ میں عبادت کرتا رہوں۔
حدیث نمبر: 3392
٣٣٩٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جُبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں فجر اور عشاء کی نماز کو جماعت سے پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ ان دونوں کے درمیانی حصہ میں عبادت کرتا رہوں۔
حدیث نمبر: 3393
٣٣٩٣ - [وشعبة عن ناجية بن حسان عن ابن أبي ليلى عن عمر قال: لأن أشهد العشاء والفجر في جماعة أحب إليّ من أن (أحيي) (١) ما بينهما] (٢) (٣).
حدیث نمبر: 3394
٣٣٩٤ - حدثنا عبدة عن محمد بن (عمرو) (١) عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب (٢) قال: كان عمر إذا هبط (من) (٣) السوق مر على الشفاء ابنة (عبد اللَّه) (٤) فمر عليها يوما من رمضان (فقال) (٥): أين سليمان، (ابنها؟) (٦) قالت: نائم، قال: وما شهد صلاة الصبح؟ قالت: لا قام بالناس الليلة، ثم جاء فضرب برأسه، فقال عمر: شهود صلاة الصبح أحب إليَّ من قيام ليلة حتى الصبح (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب بازار کی طرف جاتے آتے تو شفاء بنت عبد اللہ کے پاس سے گذرتے۔ ایک دن رمضان میں ان کے پاس سے گذرے تو ان سے پوچھا کہ سلیمان (ان کے بیٹے) کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا انہوں نے فجر کی نماز پڑھی ہے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ نہیں، وہ ساری رات لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے رہے، پھر آ کر سو گئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ صبح کی نماز کو جماعت سے پڑھنا میرے نزدیک پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 3395
٣٣٩٥ - حدثنا يزيد (عن) (١) هشام عن الحسن قال: (لأن) (٢) أشهد العشاء والفجر في جماعة أحب إليَّ من أن أحيي ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ میں فجر اور عشاء کی نماز کو جماعت سے پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ ان دونوں کے درمیانی حصہ میں عبادت کرتا رہوں۔