کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا جائے گا کیونکہ گرمی جہنم کی پھونک ہے
حدیث نمبر: 3313
٣٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش (عن أبي صالح) (١) عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أبردوا (الصلاة) (٢) -يعني: الظهر-، فإن شدة الحر من فيح جهنم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔
حدیث نمبر: 3314
٣٣١٤ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن أبي هريرة قال: قال نبي اللَّه ﷺ: "بردوا بالصلاة فإن حر (لظهيره) (١) من فيح جهنم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ دوپہر کی گرمی جہنم کی پھونک ہے۔
حدیث نمبر: 3315
٣٣١٥ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة قال: حدثنا المهاجر أبو الحسن قال: سمعت زيد بن وهب يحدث عن أبي ذر قال: كنا مع رسول اللَّه ﷺ في مسير فأراد بلال أن يؤذن فقال (له) (١) رسول اللَّه ﷺ: "أبرد"، ثم أراد أن يؤذن فقال: "أبرد"، ⦗٢١١⦘ حتى رأينا فيء (التلول) (٢)، ثم أذن فصلى الظهر، ثم قال: "إن شدة الحر من فيح جهنم، فإذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، حضرت بلال نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو ۔ کچھ دیر بعد پھر انہوں نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا ذرا ٹھنڈا ہونے دو ۔ یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ پھر انہوں نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔
حدیث نمبر: 3316
٣٣١٦ - [حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) عن أبي بكر بن أبي موسى عن أبي موسى: أنه كان يقول: أبردوا (بالصلاة) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرمایا کرتے تھے کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔
حدیث نمبر: 3317
٣٣١٧ - حدثنا علي بن مسهر عن يزيد (عن) (١) عبد الرحمن بن سابط قال: أذن أبو محذورة بصلاة الظهر بمكة فقال له عمر: أصوتك يا أبا محذورة الذي سمعت؛ قال: نعم، ذخرته لك يا أمير المؤمنين (لأسمعكه) (٢)، فقال له عمر: يا أبا محذورة إنك بارض (شديدة) (٣) الحر فأبرد بالصلاة ثم أبرد بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ نے مکہ میں ظہر کی اذان دی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! کیا میں نے ابھی تمہاری آواز سنی ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں، اے امیر المؤمنین ! میں نے اپنی آواز اس لئے بلند کی تاکہ آپ سن لیں۔ حضرت عمرنے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! تم ایک ایسی سرزمین میں ہو جہاں شدید گرمی پڑتی ہے، اس لئے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو۔ اس کے بعد سے حضرت ابو محذورہ ظہر کو ٹھنڈا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3318
٣٣١٨ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن عروة عن عبد اللَّه بن شقيق عن أبي هريرة قال: الحر أو شدة الحر من فيح جهنم فأبردوا (بالظهر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 3319
٣٣١٩ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: حدثنا (بشير) (١) بن (سلمان) (٢) عن القاسم بن صفوان عن أبيه قال سمعت النبي ﷺ يقول: "أبردوا بصلاة الظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔
حدیث نمبر: 3320
٣٣٢٠ - حدثنا وكيع قال: نا إسماعيل عن قيس قال: كان يقال: أبردوا بالظهر فإن أبواب جهنم تفتح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ اس وقت جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3321
٣٣٢١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن منذر قال: قال عُمر: أبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے۔