کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک امام کے رخ پھیرنے سے پہلے نماز پوری کرنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 3156
٣١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: إذا سلم الإمام فقم واصنع ما شئت، يقول: لا (تنتظر) (١) قيامه ولا تحوله من مجلسه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب امام سلام پھیر دے تو اٹھ کر جو مرضی چاہے کرو۔ اس کے اٹھنے اور جگہ بدلنے کا انتظار نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3156
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3156، ترقيم محمد عوامة 3143)
حدیث نمبر: 3157
٣١٥٧ - حدثنا حفص عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر: أنه كان (يقضي) (١) ولا (ينتظر) (٢) الإمام (٣). - قال: وكان القاسم وسالم ونافع يفعلون ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما باقی ماندہ نماز ادا کرلیتے تھے اور امام کے اٹھنے کا انتظار نہیں کیا کرتے تھے۔ حضرت قاسم اور حضرت سالم بھی یونہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3157، ترقيم محمد عوامة 3144)
حدیث نمبر: 3158
٣١٥٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (أبو) (١) هارون قال: صليت بالمدينة فسبقت ببعض الصلاة، فلما سلم الإمام قمت لأقضي ما سبقت (به) (٢)، فجبذني رجل كان إلى جنبي، ثم قال: كان ينبغي لك أن لا تقوم حتى ينحرف، قال: فلقيت أبا سعيد (فذكرت له ذلك) (٣)، فكأنه لم يكره ما صنعت أو كلمة نحوها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہارون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مدینہ منورہ میں نماز پڑھی تو میری کچھ نماز جماعت سے رہ گئی۔ جب امام نے سلام پھیرلیا تو میں باقی ماندہ نماز کو ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں میرے ساتھ کھڑے ایک آدمی نے مجھے زور سے کھینچا اور کہا کہ جب تک امام رخ نہ پھیرلے تمہیں کھڑا نہیں ہونا چاہئے۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابو سعید سے کیا تو انہوں نے میرے عمل کو بالکل مکروہ خیال نہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3158
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدا؛ لحال أبي هارون.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3158، ترقيم محمد عوامة 3145)
حدیث نمبر: 3159
٣١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا روح بن عبادة عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه قال: يا بني إذا سلمت فإني أجلس فاسبح وأكبر، فمن بقي عليه شيء من صلاته فليقم فليقض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ نے اپنے بیٹے ہشام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ” اے میرے بیٹے ! جب میں سلام پھیر لیتا ہوں تو بیٹھ کر تسبیح وتکبیر پڑھتا ہوں، جس کی نماز باقی رہ جائے وہ اسے اٹھ کر پورا کرلے “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3159
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3159، ترقيم محمد عوامة 3146)
حدیث نمبر: 3160
٣١٦٠ - حدثنا روح بن عبادة عن ابن جريج عن عطاء قال: (انتظره) (١) قليلا فإن جلس فقم ودعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ امام کا تھوڑا سا انتظار کرلے، اگر وہ بیٹھا رہے تو اٹھے جائے اور اسے چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3160
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3160، ترقيم محمد عوامة 3147)