کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد جلدی سے کھڑا ہو جائے یا قبلے سے رخ پھیر لے
٣١٠٩ - حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن أبي الأحوص قال: كان عبد اللَّه إذا قضى الصلاة انفتل لسريعًا فإما أن يقوم، وإما أن ينحرف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ جب نماز مکمل کرلیتے تو جلدی سے ہیئت بدل لیتے، یا تو کھڑے ہوجاتے یاقبلے سے رخ پھیر لیتے۔
٣١١٠ - حدثنا هشيم عن منصور وخالد عن أنس بن سيرين عن ابن عمر قال: كان الإمام إذا سلم قام. وقال خالد: انحرف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب امام سلام پھیر لے توکھڑ اہوجائے۔ حضرت خالد کی روایت میں ہے کہ قبلے سے رخ پھیر لے۔
٣١١١ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي رزين قال: صليت خلف علي فسلم عن يمينه وعن يساره، ثم وثب كما هو (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا اور پھر جلدی سے اپنی معمول کی حالت پر آگئے۔
٣١١٢ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن (ليث) (٢) عن مجاهد قال: قال عمر: جلوس الإمام بعد التسليم (بدعة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ امام کا سلام کے بعد بیٹھنا بدعت ہے۔
٣١١٣ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن أبي (حصين) (١) قال: كان أبو عبيدة ابن الجراح إذا سلم كانه على (الرضف) (٢) حتى يقوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح جب سلام پھیر لیتے تو اس طرح جلدی سے اٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔
٣١١٤ - حدثنا أبو معاوية عن (عاصم) (١) عن عبد اللَّه بن (الحارث) (٢) عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سلم لم يقعد إلا مقدار ما يقول: "اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت (يا) (٣) ذا الجلال والإكرام" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ کلمات کہہ لیتے : اے اللہ ! تو سلام ہے، تجھی سے سلامتی ملتی ہے، تو بابرکت ہے اور جلال و اکرام والا ہے۔
٣١١٥ - حدثنا أبو معاوية [عن عاصم] (١) عن عوسجة بن الرماح (٢) عن ابن أبي الهذيل عن ابن مسعود قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سلم لم يجلس إلا مقدار ما يقول: "اللَّهُم أَنْتَ السَّلامُ، (وَمِنْكَ) (٣) السَّلَامُ، تبَارَكْتَ يَا ذا الجْلالِ وَالإِكْرَامِ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ کلمات کہہ لیتے : اے اللہ ! تو سلام ہے، تجھی سے سلامتی ملتی ہے، تو بابرکت ہے اور جلال و اکرام والا ہے۔
٣١١٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي سنان عن سعيد بن جبير قال: كان لنا إمام ذكر من فضله إذا (سلم تقدم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ہمارا ایک امام تھا (پھر اس کی فضیلت بیان کی اور فرمایا) جب وہ سلام پھیر لیتا تو آگے بڑھ جاتا ۔
٣١١٧ - [حدثنا معتمر عن عمران عن أبي (مجلز) (١) قال: كل صلاة بعدها تطوع فتحول إلا العصر والفجر] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ ہر وہ نماز جس کے بعد نفل ہوں تو اس کے فرض پڑھ کر فوراً قبلے سے رخ پھیر لو، البتہ فجر اور عصر میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔
٣١١٨ - حدثنا معتمر عن ليث عن مجاهد قال: أما المغرب فلا تدع أن تتحول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مغرب کی نماز پڑھ کر فورا قبلے سے رخ پھیر لو۔
٣١١٩ - حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن: أنه كان إذا سلم انحرف أو قام سريعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حسن جب سلام پھیر لیتے تو جلدی سے منہ قبلے سے پھیر لیتے یا تیزی سے کھڑے ہوجاتے۔
٣١٢٠ - حدثنا أبو داود عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه: أنه كان إذا سلم قام فذهب كما هو ولم يجلس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس کہتے ہیں کہ حضرت طاوس جونہی سلام پھیرتے کھڑے ہوجاتے جیسے بیٹھے ہی نہیں تھے۔
٣١٢١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم: أنه كان إذا سلم انحرف واستقبل القوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ ابراہیم جونہی سلام پھیرتے منہ قبلے سے پھیر لیتے اور لوگوں کی طرف منہ کرلیتے۔
٣١٢٢ - حدثنا هشيم قال: أنا يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد (بن) (١) الأسود العامري عن أبيه قال: صليت مع رسول اللَّه ﷺ الفجر فلما سلم انحرف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اسود عامری کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی ، آپ نے سلام پھیرتے ہی قبلے سے رخ پھیرلیا۔
٣١٢٣ - حدثنا وكيع عن (أبي عاصم) (١) الثقفي عن قيس بن مسلم عن طارق ابن شهاب: أن عليا لما انصرف (استقبل) (٢) القوم بوجهه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت علینے سلام پھیرتے ہی لوگوں کی طرف منہ کرلیا۔