کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کولہوں کے بل بیٹھنا مکر وہ ہے
حدیث نمبر: 2961
٢٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة قال: نهاني خليلي أن (أقعي) (١) كإقعاء القرد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا کہ میں بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھوں۔
حدیث نمبر: 2962
٢٩٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: أنه كره الإقعاء في الصلاة، وقال: عقبة الشيطان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے اور یہ کہتے کہ یہ شیطان کا انداز ہے۔
حدیث نمبر: 2963
٢٩٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: أنه كره الإقعاء في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2964
٢٩٦٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن سعيد المقبري قال: صليت إلى جنب أبي هريرة فانتصبت على صدور قدمي فجذبني حتى اطمأننت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مقبری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کے ساتھ نماز پڑھی، میں اپنے قدموں کے اگلے حصہ پر بیٹھا تو انہوں نے مجھے کھینچا یہاں تک کہ میں ا طمینان سے بیٹھ گیا۔
حدیث نمبر: 2965
٢٩٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة (عن إبراهيم) (١): أنه كره الإقعاء والتورك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے اور اس طرح بیٹھنے کو مکروہ خیال فرمایا کہ نمازی اپنے دائیں کولہے کو دائیں پاؤں پر اس طرح رکھے کہ وہ کھڑا ہو اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، نیز بائیں کولہے کو زمین پر ٹیکے اور بائیں پاؤں کو پھیلا کر دائیں طرف کونکالے۔
حدیث نمبر: 2966
٢٩٦٦ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد: كرها الإقعاء في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد نما زمین پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2967
٢٩٦٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر: أنه كره الإقعاء بين السجدتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ بتایا ہے۔
حدیث نمبر: 2968
٢٩٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حسين المعلم عن بديل عن أبي الجوزاء عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ ينهى عن (عقبة) (١) الشيطان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2969
٢٩٦٩ - حدثنا ابن علية عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: من السنة أن تضع أليتيك على (عقبيك) (١) في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ تم اپنے کو لہوں کو اپنے پیچھے کے حصہ والی زمین کی طرف رکھو۔