کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو نا پسند کیا ہے
حدیث نمبر: 2939
٢٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) وكيع بن الجراح عن سفيان عن سالم (أبي) (١) النضر عن (بسر) (٢) بن سعيد عن عبد اللَّه بن (جهيم) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو يعلم أحدكم ما له في الممر بين يدي أخيه، وهو يصلي - (يعني) (٤) من الإثم- لوقف أربعين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ابی جہیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والا جان لے کہ اس عمل میں کتنا بڑا گناہ ہے تو چالیس (سال، مہینے یا دنوں) تک کھڑا رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2939
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٥١٠)، ومسلم (٥٠٧)، ومن طريق المؤلف أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٠٧٧)، وانظر: المسند للمؤلف (٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2939، ترقيم محمد عوامة 2927)
حدیث نمبر: 2940
٢٩٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت (عبد الحميد بن عبد الرحمن) (١) عامل عمر بن عبد العزيز ومر رجل بين يديه وهو يصلي فجبذه حتى كاد يخرق ثيابه فلما انصرف قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو يعلم المار بين يدي المصلي لأحب أن ينكسر فخذه ولا يمر بين يديه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے گورنر عبد الحمید بن عبد الرحمن کے آگے سے ایک آدمی نماز کے دوران گذرنے لگا، تو انہوں نے اسے اس زور سے کھینچا کہ اس کے کپڑے پھٹنے کے قریب ہوگئے۔ جب انہوں نے نماز پوری کرلی تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والا جان لے کہ اس میں کتنا گناہ ہے تو وہ اپنی ران کے ٹوٹنے کو ترجیح دے لیکن نمازی کے آگے سے نہ گذرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2940
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2940، ترقيم محمد عوامة 2928)
حدیث نمبر: 2941
٢٩٤١ - حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن (عبد اللَّه) (١) بن بريدة قال: رأي أبي ناسا (يمر) (٢) بعضهم بين يدي بعض في الصلاق فقال: ترى أبناء هؤلاء إذ [أدركوا يقولون: إنا وجدنا آباءنا كذلك يفعلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں ایک دوسرے کے آگے سے گذر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ان بچوں کو دیکھو جب یہ بڑے ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو یونہی کرتے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2941
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2941، ترقيم محمد عوامة 2929)
حدیث نمبر: 2942
٢٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين قال: كان أبو سعيد الخدري قائما يمضي فجاء عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يمر بين يديه (فمنعه) (١)، وأبى إلا أن يمضي فدفعه أبو سعيد فطرحه، فقيل له: (و) (٢) هذا بعبد الرحمن؟! فقال: واللَّه لو أبى إلا أن (آخذه) (٣) بشعره لأخذت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام ان کے آگے سے گذرنے لگے، حضرت ابو سعید نے انہیں روکا، لیکن انہوں نے گذرنے پر اصرار کیا تو حضرت ابو سعید نے انہیں زور سے پیچھے دھکیل دیا۔ حضرت ابو سعید سے کہا گیا کہ آپ عبد الرحمن کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اگر مجھے ان کے بال پکڑ کر بھی روکنا پڑتا تو میں انہیں روکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2942
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسدد (٣٤٢ مطالب) وبنحوه البخاري (٥٠٩) ومسلم (٥٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2942، ترقيم محمد عوامة 2930)
حدیث نمبر: 2943
٢٩٤٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن جاء أحد يمر بين يديه فليقاتله فإنما هو شيطان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گذرنے لگے تو اس سے جھگڑا کرکے اسے روکے، کیونکہ یہ شیطان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2943
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه البخاري (٥٠٩)، ومسلم (٥٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2943، ترقيم محمد عوامة 2931)
حدیث نمبر: 2944
٢٩٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: من استطاع منكم أن لا يمر بين يديه وهو يصلي فليفعل، فإن المار بين يدي المصلي أنقص (من) (١) الممر عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جو تم میں سے اس بات کی طاقت رکھتا ہو کہ نماز کے دوران کسی کوا پنے آگے سے نہ گذرنے دے تو ایسا ضرور کرلے، کیونکہ گذرنے والا اس نمازی سے زیادہ اپنا نقصان کررہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2944
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2944، ترقيم محمد عوامة 2932)
حدیث نمبر: 2945
٢٩٤٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: قلت لسعيد بن جبير: (أدع) (١) أحدا يمر بين يدي؟ قال: لا. قلت: فإن أبى؟ قال: فما تصنع؟ قلت: بلغني أن ابن عمر كان لا (يدع) (٢) أحدا يمر بين يديه. قال: إن ذهبت تصنع صنيع ابن عمر دق أنفك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی میرے آگے سے گذرے تو کیا میں اسے گذرنے دوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا اگر وہ گذرنے پر اصرار کرنے لگے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ پھر تم کیا کرو گے ؟ میں نے کہا کہ مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول پہنچا ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو توا پنے آگے سے کسی کو نہ گذرنے دے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ اگر تم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو اپنانا چاہتے ہو تو اپنا ناک توڑ دو !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2945
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2945، ترقيم محمد عوامة 2933)
حدیث نمبر: 2946
٢٩٤٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن يحيى بن الجزار عن ابن عباس: أن النبي-ﷺ أن يصلي، فجعل جدي يريد أن يمر بين يدي النبي ﷺ، فجعل يتقدم (ويتأخر) (١) حتى (نزا) (٢) الجدي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی بکری کا بچہ بھی آپ کے آگے سے گذرنے لگتا تو آپ آگے بڑھ کر اس کو روک لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2946
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٧٠٩)، وأبو داود (٧٥٩)، والطيالسي (٢٧٥٤)، وأبو يعلى (٢٤٢٢)، وابن حبان (٢٣٧٢) وابن خزيمة (٨٣٦)، والحاكم ١/ ٢٥٤، والطبراني (١١٩٣٧)، والبيهقي ٢/ ٢٦٨، وقد ورد من طريق يحيى بن الجزار عن صهيب البكري وهو ثقة عن ابن عباس، وصحح ابن أبي حاتم الطريقين، انظر: العلل لابن أبي حاتم ١/ ٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2946، ترقيم محمد عوامة 2934)
حدیث نمبر: 2947
٢٩٤٧ - حدثنا وكيع عن (أسامة) (١) بن زيد عن (محمد بن قيس) (٢) عن أمه عن أم سلمة قالت: كان النبي ﷺ يصلي فمر بين يديه عبد اللَّه، أو عمر بن أبي ⦗١٢٣⦘ سلمة، فقال بيده فرجع، فمرت زينب ابنة أم سلمة فقال بيده هكذا فمضت، (فلما صلى) (٣) رسول اللَّه ﷺ قال: "هن أغلب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے آگے سے عبداللہ بن ابی سلمہ یا عمر بن ابی سلمہ گذرنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ رک گئے۔ پھر زینب بنت ابی سلمہ گذرنے لگیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی ہاتھ سے اشارہ کیا لیکن وہ نہیں رکیں اور آگے سے گذر گئیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ یہ لڑکیاں ہم پر غالب ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2947
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2947، ترقيم محمد عوامة 2935)
حدیث نمبر: 2948
٢٩٤٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر (١) سليمان بن حيان عن سليمان التيمي عن أبي مجلز قال: بادر رسول اللَّه ﷺ لهر أو هرة أن يمر بين يديه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ایک بلی کو اپنے آگے سے گذرنے سے روکا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2948
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2948، ترقيم محمد عوامة 2936)
حدیث نمبر: 2949
٢٩٤٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبد العزيز التنوخي عن مولى (ليزيد) (١) بن نمران عن (يزيد بن نمران) (٢) قال: رأيت رجلا مقعدا فقال: مررت بين يدي النبي ﷺ وأنا على حمار وهو يصلي فقال: "اللهم اقطع أثره فما مشيت عليها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن نمران کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک اپاہج شخص نے بیان کیا میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گذرا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں گدھے پر سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! یہ اپنے پاؤں پر نہ چل سکے۔ بس اس کے بعد سے میں اپنے قدموں پر چلنے کے قابل نہ رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2949
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2949، ترقيم محمد عوامة 2937)
حدیث نمبر: 2950
٢٩٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن (فطر) (١) عن عمرو بن دينار قال: مررت بين يدي ابن عمر وهو في الصلاة فارتفع من قعوده ثم دفع في صدري (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آگے سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، وہ اپنے قعود سے کھڑے ہوئے اور میرے سینے سے مجھے دھکا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2950
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ فطر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2950، ترقيم محمد عوامة 2938)
حدیث نمبر: 2951
٢٩٥١ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: (حدثنا) (١) (هريم) (٢) عن بيان عن ⦗١٢٤⦘ (وبرة) (٣) قال: ما رأيت أحد [أشد عليه أن يمر بين يديه في صلاة من إبراهيم النخعي وعبد الرحمن بن الأسود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز میں آگے سے گذرنے والوں کو روکنے کے معاملے میں ابراہیم نخعی اور حضرت عبدا لرحمن بن اسود سے زیادہ شدت کسی کو برتتے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2951، ترقيم محمد عوامة 2939)