حدیث نمبر: 2827
٢٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (أبي فزارة) (١) قال: قال ابن عباس: يسجد المريض على المرفقة والثوب الطيب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مریض تکیے اور پاک کپڑے پر سجدہ کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2828
٢٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: (حدثتني) (١) أم الحسن: أنها رأت أم سلمة رمدت عينها (فثنت) (٢) لها وسادة من أدم (وجعلت) (٣) تسجد عليها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حسن فرماتی ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو دیکھا کہ آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے ان کے لئے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا گیا جس پر وہ سجدہ کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 2829
٢٨٢٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن الحسن عن أم سلمة مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2830
٢٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن عاصم عن الحسن عن أمه عن أم سلمة مثله إلا أنه قال: اشتكت عينها (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے مختلف الفاظ کے ساتھ یہی حدیث منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2831
٢٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن عاصم عن ابن سيرين عن أنس: أنه سجد على مرفقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے تکیہ پر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 2832
٢٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن أبي خلدة قال: كان أبو العالية مريضًا (وكانت) (١) (المرفقة) (٢) تثنى له فيسجد عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ ابو العالیہ مریض تھے، ان کے لئے تکیہ کو گول کرکے رکھا جاتا تھا اور وہ اس پر سجدہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2833
٢٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن: أنه كان لا يرى بأسًا أن يسجد الرجل على المرفقة والوسادة في السفينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی کشتی میں تکیہ پر سجدہ کرے۔