کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک مسجود میں ناک زمین پر لگا نا ضروری نہیں
٢٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد اللَّه قال: قلت لوهب بن كيسان: يا أبا نعيم مالك لا تمكن جبهتك وأنفك من الأرض؟ قال: ذلك أني سمعت جابر بن عبد اللَّه يقول: رأيت رسول اللَّه ﷺ يسجد في أعلى جبهته على قصاص الشعر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لعزیز بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے وہب بن کیسان سے کہا کہ اے ابو نعیم ! کیا بات ہے، آپ اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر ٹکاتے کیوں نہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے اپنی پیشانی کے اونچے حصے پر بالوں کے اگنے کی جگہ سجدہ فرمایا۔
٢٧٢٣ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن قال: إن شئت فاسجد على أنفك، وإن شئت فلا تفعل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو اپنی ناک پر سجدہ کرلو اور اگر چاہو تو ایسا نہ کرو۔
٢٧٢٤ - حدثنا معن عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت القاسم وسالما يسجدان على جباههما، ولا تمس الأرض أنوفهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو دیکھا کہ وہ اپنی پیشانیوں پر سجدہ کرتے تھے اور ان کے ناک زمین پر نہ لگتے تھے۔
٢٧٢٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في رجل لم يسجد على أنفه قال: يجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس شخص کے بارے میں جس کی ناک دورانِ سجدہ زمین پر نہ لگے فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
٢٧٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: لا (يضره) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی نقصان نہیں۔