حدیث نمبر: 2696
٢٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون عن محمد قال: كانوا يستحبون إذا سجد الرجل أن يقول بيديه هكذا، وضم أزهر أصابعه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ جب آدمی سجدہ کرے تو ہاتھوں کو یوں رکھے۔ یہ کہہ کر راوی ازہر نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
حدیث نمبر: 2697
٢٦٩٧ - حدثنا وكيع عن أبيه عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا سجدت فلا تضم كفيك وابسط أصابعك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو نہ ملاؤ اور اپنی انگلیوں کو پھیلا کر رکھو۔
حدیث نمبر: 2698
٢٦٩٨ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن عبد الرحمن بن القاسم قال: صليت إلى جنب حفص بن عاصم، فلما سجدت فرجت بين أصابعي وأملت كفي عن القبلة، فلما سلمت قال: يا ابن أخي؛ إذا سجدت (فاضمم) (١) أصابعك، ووجه يديك قِبَلَ القبلة فإن اليدين (تسجدان) (٢) مع الوجه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حفص بن عاصم کے ساتھ نماز پڑھی، جب میں سجدے میں گیا تو میں نے اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھا اور اپنی ہتھیلیوں کو قبلے سے پھیرلیا۔ جب میں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا ” اے بھتیجے ! جب تم سجدہ کرو اپنی انگلیوں کو ملا کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو قبلہ رخ رکھو، کیونکہ چہرے کے ساتھ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2699
٢٦٩٩ - حدثنا وكيع قال: (١) سفيان يفرج بين أصابعه في الركوع، ويضم في السجود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ آدمی رکوع میں انگلیوں کو کھلا اور سجدہ میں ملا کر رکھے گا۔