حدیث نمبر: 2519
٢٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن الحسن بن ⦗٣٣⦘ عمران عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه قال: (صليت) (١) (خلف النبي ﷺ) (٢) فكان لا يتم التكبير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن أبزی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، آپ ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2520
٢٥٢٠ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن الحسن بن عمران: أن عمر بن عبد العزيز كان لا يتم التكبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عمران فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2521
٢٥٢١ - حدثنا سهل بن يوسف عن (حميد) (١) قال: صليت خلف عمر بن عبد العزيز فكان لا يتم التكبير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نما زپڑھی ہے، وہ ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2522
٢٥٢٢ - [حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: أول من نقص التكبير زياد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے زیاد نے نماز میں تکبیریں کہنا چھوڑی ہیں۔
حدیث نمبر: 2523
٢٥٢٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه بن عمر قال: صليت خلف القاسم وسالم فكانا لا يتمان التكبير] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ دونوں ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2524
٢٥٢٤ - حدثنا الثقفي عن عبيد اللَّه عن القاسم وسالم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2525
٢٥٢٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: صليت مع سعيد بن جبير فكان لا يتم التكبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے پیچھے نماز پڑھی ہے وہ ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2526
٢٥٢٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن يزيد الفقير قال: كان ابن عمر ينقص التكبير في الصلاة (١). ⦗٣٤⦘ - قال مسعر: إذا انحط بعد الركوع (للسجود لم) (٢) يكبر، فإذا أراد أن يسجد الثانية لم يكبر
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں تکبیرات کم کردیا کرتے تھے۔ حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ جب وہ رکوع سے سجدہ میں جاتے تھے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ اور جب دوسرا سجدہ کرنے لگتے تو اس وقت بھی تکبیر نہیں کہتے تھے۔