کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نماز میں اعوذ باللہ قرات سے پہلے پڑھی جائے گی یا بعد میں؟
حدیث نمبر: 2477
٢٤٧٧ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: افتتح عمر الصلاة، ثم كبر، ثم قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك، أعوذ باللَّه من الشيطان الرجيم، الحمد للَّه رب العالمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمرجب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور پھر یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد آپ تعوذ پڑھتے پھر سورة فاتحہ کی تلاوت فرماتے ۔
حدیث نمبر: 2478
٢٤٧٨ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن سفيان عن الأسود قال: سمعت عمر افتتح الصلاة وكبر، فقال: سبحانك اللهم وبحمدك، (و) (١) تبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك ثم (تعوذ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو سنا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہا، پھر یہ کلمات کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد آپ نے تعوذ پڑھی۔
حدیث نمبر: 2479
٢٤٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن نافع عن ابن عمر كان يتعوذ يقول: أعوذ باللَّه من الشيطان الرجيم، أو (أعوذ باللَّه السميع) (٢) العلم من الشيطان الرجيم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تعوذ کے لئے یہ کلمات کہا کرتے تھے : میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ یا یہ کلمات کہا کرتے تھے : میں شیطان مردود سے اللہ سمیع وعلیم کی پناہ چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 2480
٢٤٨٠ - [حدثنا محمد بن أبي عدي عن كهمس عن عبد اللَّه بن مسلم بن يسار قال: سمعني أبي وأنا أستعيذ بالسميع العليم، فقال: ما هذا؟! (قال) (١): (قل) (٢) أعوذ باللَّه من الشيطان الرجيم إن اللَّه هو السميع العليم] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ اعوذ باللہ السمیع العلیم پڑھ رہا تھا تو میرے والد فرمانے لگے کہ یہ کیا ہے ؟ تم اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہو۔ اللہ تعالیٰ سمیع وعلیم تو ہے ہی۔
حدیث نمبر: 2481
٢٤٨١ - حدثنا عبد الوهاب (الثقفي) (١) عن أيوب عن محمد: أنه كان يتعوذ قبل قراءة فاتحة الكتاب، وبعدها، ويقول في تعوذه: أعوذ (باللَّه السميع) (٢) العلم من همزات الشياطين وأعوذ باللَّه أن يحضرون.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ محمد سورة فاتحہ سے پہلے اور سورۂ فاتحہ کے بعد تعوذ پڑھا کرتے تھے۔ وہ اپنے تعوذ میں یہ کلمات کہا کرتے تھے : میں شیطانی وساوس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔
حدیث نمبر: 2482
٢٤٨٢ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة عن (عباد بن) (١) عاصم عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ حين افتتح ⦗٢٥⦘ الصلاة قال: "اللَّهُم (إِنَّي) (٢) أعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ من هَمْزِهِ وَنفْخِهِ وَنَفْثِهِ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے شروع میں فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں شیطان مردود کی طرف سے متوجہ کردہ بیماری، اس کی طرف سے مسلط کردہ تکبر اور اس کی طرف سے الہام کردہ شعر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔