کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 2408
٢٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن أبي وائل عن الأسود بن يزيد قال: رأيت عمر بن الخطاب افتتح الصلاة فكبر، ثم قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے ہوئے اللہ اکبر کہا۔ پھر یہ کلمات کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2408
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطحاوي ١/ ١٩٨، والدارقطني ١/ ٢٩٩، والحاكم ١/ ٢٣٥، والبيهقي ٢/ ٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2408، ترقيم محمد عوامة 2402)
حدیث نمبر: 2409
٢٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان عمر إذا افتتح الصلاة كبر، فذكر مثل (حديث) (٢) حصين، وزاد فيه: يجهر بهن، ⦗٨⦘ قال: (وقال: كان) (٣) إبراهيم لا يجهر بهن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی حدیث منقول ہے، جس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ ان کلمات کو بلند آواز سے کہا کرتے تھے۔ ابراہیم بھی ان کلمات کو بلند آواز سے کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2409
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2409، ترقيم محمد عوامة 2403)
حدیث نمبر: 2410
٢٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: سمعت عمر يقول حين افتتح الصلاة: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو نماز کے شروع میں یہ کلمات کہتے ہوئے سنا : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2410
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2410، ترقيم محمد عوامة 2404)
حدیث نمبر: 2411
٢٤١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن ابن عون عن إبراهيم عن علقمة: أنه انطلق إلى عمر، فقالوا له: احفظ لنا ما استطعت، فلما قدم قال: فيما حفظت؛ أنه توضأ مرتين، ونثر مرتين، فلما كبر، أو فلما قام إلى الصلاة قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھیوں نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں جو کچھ سکھا سکتے ہیں وہ سکھا دیجئے۔ پھر حضرت عمرنے جو باتیں ہمیں سکھائیں ان میں سے مجھے یہ یاد ہے کہ انہوں نے دو مرتبہ وضو کیا اور دو مرتبہ اپنا ناک صاف کیا۔ پھر جب انہوں نے نماز کے لئے تکبیر کہی تو یہ کلمات کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2411
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2411، ترقيم محمد عوامة 2405)
حدیث نمبر: 2412
٢٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام عن خصيف عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه: أنه كان إذا افتتح الصلاة قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جب نماز شروع کرتے تو یہ کلمات کہتے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2412
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، خصيف ضعيف، وأبو عبيدة لم يسمع من أبيه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2412، ترقيم محمد عوامة 2406)
حدیث نمبر: 2413
٢٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل (بن) (١) أبي خالد عن (حكيم) (٢) بن جابر أن عمر كان إذا افتتح الصلاة قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر کہتے ہیں کہ حضرت عمر جب نماز شروع کرتے تو یہ کلمات کہتے تھے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ لحال أبي خالد، وانظر ما تقدم برقم [٢٤١١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2413، ترقيم محمد عوامة 2407)
حدیث نمبر: 2414
٢٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان قال: بلغني أن أبا بكر كان يقول مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عجلان کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر بھی یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2414، ترقيم محمد عوامة 2408)
حدیث نمبر: 2415
٢٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن أبي وائل قال: كان عمر. إذا افتتح الصلاة قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (يسمعنا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عمر جب نماز شروع کرتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2415
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عاصم في أبي وائل، وانظر: [٢٤٠٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2415، ترقيم محمد عوامة 2409)
حدیث نمبر: 2416
٢٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عمر أنه قال حين استفتح الصلاة، قال: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك [اسمك] (١)، وتعالى جدك، ولا إله غيرك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب نماز شروع کرتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2416
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما تقدم برقم [٢٤١٠].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2416، ترقيم محمد عوامة 2410)
حدیث نمبر: 2417
٢٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة عن عباد بن عاصم عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ حين افتتح الصلاة قال: "اللَّهُ أكْبَرُ (كبيرًا) (١) ثلاثًا، (و) (٢) الحَمْدُ للَّهِ (٣) كثيرًا ثلاثًا، سُبْحَانَ اللَّه بُكْرَةً وَأصيلًا ثلاثًا، اللَّهُمَّ إِني أعُوذ بكَ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهَ وَنَفْخَهِ وَنَفثِهِ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز شروع کرتے سنا کہ آپ نے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا، تین مرتبہ الحمد للّٰہ کثیرا کہا، تین مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً کہا، پھر یہ کلمات کہے : میں شیطان مردود کی طرف سے متوجہ کردہ بیماری، اس کی طرف سے مسلط کردہ تکبر اور اس کی طرف سے الہام کردہ شعر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2417
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2417، ترقيم محمد عوامة 2411)
حدیث نمبر: 2418
٢٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن حصين عن عمرو بن مرة عن (ابن) (١) جبير بن مطعم عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ صلى الضحى، فذكر مثل حديث ابن إدريس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2418
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2418، ترقيم محمد عوامة 2412)
حدیث نمبر: 2419
٢٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن عمرو بن مرة عن طلحة بن (يزيد) (١) الأنصاري عن حذيفة (قال) (٢): قال النبي ﷺ ذات (ليلة) (٣) من رمضان في حجرة من جريد النخل، ثم (صب) (٤) عليه دلوًا من ماء، ثم قال: "اللَّهُ أكَبْرُ (ذو) (٥) المَلَكُوتِ وَالجَبَرُوتِ وَالكِبْرَياءِ والْعَظمَةِ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کی ایک رات میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی چھال کے بنے حجرہ سے باہر تشریف لائے، پھر اپنے اوپر پانی کا ایک ڈول ڈالا اور فرمایا : اللہ سب سے بڑا ہے، وہ بادشاہت ، جلال، کبریائی اور عظمت کا مالک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2419
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2419، ترقيم محمد عوامة 2413)
حدیث نمبر: 2420
٢٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سويد بن عمرو الكلبي قال: نا عبد العزيز ابن أبي سلمة قال: أنا الماجشون (عمي) (١) عن الأعرج عن عبيد اللَّه بن أبي رافع عن علي قال: كان النبي ﷺ إذا افتتح الصلاة كبر، ثم قال: "وَجهْتُ وَجْهِي للذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حنيفًا وَمَا أَنَا مِنَ المُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنسُكي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبذَلِكَ أمِرْتُ، وَأنَا أوَّلُ المُسْلِمِين. اللَّهُمَّ ⦗١١⦘ أَنْتَ الملكُ لَا إلَهَ إلَا أْنتَ، (أنْتَ رَبِّي) (٢) وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعتُرفْتُ بِذَنْبي فَاغْفِرْ لِي ذنُوبي جَميعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلا أَنْتَ، وَاهْدِني لأَحْسْنِ الأَخْلاقِ (فَلَا يَهْدِي) (٣) لأَحْسَنها إلا أنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا (فَلَا) (٤) يَصْرِفُ (عَنِّي) (٥) سِيِّئهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالخْيَرُ كُلُّهُ في يَدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفرُكَ وَأَتُوبُ إلَيْكَ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات ارشاد فرماتے : میں نے اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف پھیر لیا جس نے زمینوں اور آسمانوں کو وجود بخشا ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسلام لانے والوں میں ابتداء کرنے والا ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے سارے گناہوں کو معاف فرما دے، یقینا تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا اچھے اخلاق کی ہدایت کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے برے اخلاق سے محفوظ فرما تیرے سوا مجھے برے اخلاق سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھ کر حاضر ہوں۔ ساری کی ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، میرا سہارا اور مرجع تو ہی ہے، تو بابرکت ہے اور تو بلند ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2420
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٧٧١)، وأحمد (٧٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2420، ترقيم محمد عوامة 2414)
حدیث نمبر: 2421
٢٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت عمرو ابن ميمون قال: صلى بنا عمر الصبح وهو مسافر بذي الحليفة وهو يريد مكة فقال: اللَّه أكبر سبحانك اللهم وبحمدك، (و) (١) تبارك اسمك، وتعالى جدك، (و) (٢) لا إله غيرك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر مکہ کی طرف جاتے ہوئے مقام ذو الحلیفہ میں تھے، آپ نے وہاں ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2421
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما تقدم برقم [٢٤١١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2421، ترقيم محمد عوامة 2415)
حدیث نمبر: 2422
٢٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثني جعفر بن سليمان (الضبعي) (٢) عن علي بن علي الرفاعي عن أبي المتوكل (٣) عن أبي سعيد ⦗١٢⦘ الخدري قال: كان النبي ﷺ يستفتح الصلاة (فيقول) (٤): "سُبْحَانَكَ اللَّهُمْ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبارَكَ اسْمُكَ، وَتَعالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو یہ کلمات کہتے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2422
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2422، ترقيم محمد عوامة 2416)
حدیث نمبر: 2423
٢٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم قال: أنا (جويبر) (١) عن الضحاك في قوله: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ﴾ [الطور: ٤٨] قال: حين تقوم إلى الصلاة تقول هؤلاء الكلمات: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِینَ تَقُومُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو یہ کلمات کہو : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2423، ترقيم محمد عوامة 2417)
حدیث نمبر: 2424
٢٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل وأبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال ابن مسعود: (إن) (١) من أحب الكلام إلى اللَّه أن يقول الرجل سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك، [رب إني ظلمت نفسي فأغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا سب سے زیادہ پسندیدہ کلام یہ ہے کہ وہ یہ کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو میرے گناہوں کو معاف فرما دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2424
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2424، ترقيم محمد عوامة 2418)
حدیث نمبر: 2425
٢٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: كان عمر إذا افتتح الصلاة رفع صوته يسمعنا (يقول) (١): سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب نماز شروع کرتے تو ہمیں سنانے کے لئے بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما تقدم برقم [٢٤١٠].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2425، ترقيم محمد عوامة 2419)
حدیث نمبر: 2426
٢٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبيد اللَّه قال: نا إسرائيل عن أبي (إسحاق) (١) عن عبد اللَّه بن أبي الخليل عن علي قال: سمعته حين كبر في الصلاة قال: لا إله إلا أنت سبحانك إني ظلمت نفسي فأغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ابی الخلیل فرماتے ہیں کہ حضرت علی جب نماز کے لئے تکبیرِ تحریمہ کہہ لیتے تو یہ کلمات کہتے ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے بیشک تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، عبد اللَّه صدوق روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في الثقات.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2426، ترقيم محمد عوامة 2420)
حدیث نمبر: 2427
٢٤٢٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان وعلي بن صالح عن أبي إسحاق عن ابن أبي الخليل (١) عن علي مثله] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2427
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2427، ترقيم محمد عوامة 2421)
حدیث نمبر: 2428
٢٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان (وعلي بن صالح) (١) عن أبي إسحاق (عن الهيثم) (٢) (قال) (٣): سمعت ابن عمر يقول حين (يفتتح) (٤) الصلاة: اللَّه أكبر كبيرا، وسبحان اللَّه وبحمده بكرة وأصيلا، اللهم اجعله أحب شيء إليَّ، وأخشى شيء عندي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الہیثم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ پاک ہے اور صبح وشام اس کی تعریف ہے، اے اللہ اپنے سامنے کھڑے ہونے کو میرے لئے سب سے زیادہ محبوب چیز بنادے اور اسے میرے لئے سب سے زیادہ قابل خشیت چیز بنادے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2428، ترقيم محمد عوامة 2422)
حدیث نمبر: 2429
٢٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن ابن مسعود نحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے بھی ایسے کلمات منقول ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2429
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2429، ترقيم محمد عوامة 2423)