حدیث نمبر: 2354
٢٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن (بيان) (١) عن قيس قال: قال عمر: لو (أطقت) (٢) الأذان مع (الخليفي) (٣) لأذنت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر میں خلافت کی ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے اذان کی طاقت رکھتا تو میں ضرور اذان دیتا۔
حدیث نمبر: 2355
٢٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن (ضرار) (١) عن زاذان قال: لو يعلم الناس ما في فضل الأذان لاضطربوا عليه بالسيوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو اذان کے ثواب کا علم ہوجائے تو تلواروں کے ذریعہ اسے حاصل کریں۔
حدیث نمبر: 2356
٢٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن جابر عن عامر عن سعد قال: لأن (أقوى) (١) على الأذان أحب إليَّ من أن أحج وأعتمر وأجاهد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ اذان دینا مجھے حج، عمرے اور جہاد سے زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 2357
٢٣٥٧ - (حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن آدم قال: حدثنا شريك عن يعلي بن عطاء) (١) عن مصعب بن عبد الرحمن عن كعب قال: من أذن (كتبت) (٢) له سبعون حسنة، وإن أقام فهو أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جو شخص اذان دے اس کے لیے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو اقامت کہے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 2358
٢٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن عباد بن إسحاق عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "اللَّهُم أَرْشِدِ الأئِمَّةَ ⦗٤٨٣⦘ وَاغفرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ” اے اللہ ! اماموں کو سیدھے راستے کی ہدایت دے اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 2359
٢٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن هشام عن يحيى قال: حدثت أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لَوْ عَلمَ النَّاسُ مَا في الأَذانِ (لَتَجَارُّوهُ) (١) "، قال: وكان يقال: ابتدروا الأذان ولا تبتدروا (الإمامة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان میں کیا ہے تو اس کے لیے بھاگ کر جائیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ اذان کے لیے کوشش کر کے جاؤ لیکن امامت کے لیے زیادہ کوشش نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2360
٢٣٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد (الأحمر) (١) عن هشام عن الحسن قال: المؤذن المحتسب أول من يكسى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ثواب کی نیت رکھنے والے مؤذن کو قیامت کے دن سب سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2361
٢٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلي بن عبيد عن طلحة بن يحيى قال: سمعت (عيسى بن طلحة قال: سمعت) (١) معاوية يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "إنَّ المُؤَذِّنِينَ أَطوْلُ (النَّاسِ) (٢) أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقياَمَةِ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موذنین قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2362
٢٣٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (هشام) (١) عن الحسن قال: أهل الصلاح والحسبة من المؤذنين أول من يكسى يوم القيامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نیک اور مخلص موذنین کو قیامت کے دن سب سے سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2363
٢٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: نا شيخ من أهل البصرة قال: نا القاسم بن عوف الشيباني عن زيد بن أرقم قال: قال النبي ﷺ: "بلَال سَيِّدُ المُؤَذِّنِين يَوْمَ الْقياَمَةِ وَلا يَتْبَعُهُ (إِلا) (١) مُؤمِنٌ، وَالمُؤذّنُونَ أطْوَلُ النَّاسِ أعْناقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال قیامت کے دن مؤذنین کے سردار ہوں گے اور ان کے پیچھے صرف مومن ہی ہوگا۔ اذان دینے والے قیامت کے دن اونچی گردنوں والے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2364
٢٣٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد عن الربيع بن صبيح قال: (أنا) (١) أبو فاطمة، رجل قد أدرك أصحاب النبي ﷺ قال: قال ابن مسعود: لو كنت مؤذنا ما باليت أن لا أحج ولا (أغزو) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر میں موذن ہوتا تو مجھے حج اور جہاد نہ کرنے کی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 2365
٢٣٦٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد ووكيع عن إسماعيل قال: قال قيس: قال عمر: لو كنت أطيق الأذان مع الخليفي لأذنت] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر خلافت کی ذمہ داریوں کے ساتھ مجھ میں اذان دینے کی طاقت ہوتی تو میں ضرور اذان دیتا۔
حدیث نمبر: 2366
٢٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد ووكيع قالا: حدثنا إسماعيل عن (شبيل) (١) ابن عوف قال: قال عمر: من مؤذنوكم؟ قالوا: عبيدنا وموالينا، (قال) (٢): إن ⦗٤٨٥⦘ (ذلك) (٣) لنقص بكم (كبير) (٤). إلا أن وكيعا قال: كثيرا، أو كبيرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عمر نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے موذن کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے غلام اور ہمارے موالی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ تمہارا بہت بڑا نقص ہے۔
حدیث نمبر: 2367
٢٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبيد اللَّه بن الوليد عن (عبد اللَّه) (١) ابن عبيد بن عمير عن عائشة قالت: ما أرى (هذه الآية) (٢) (نزلت (لا) (٣) في المؤذنين: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [فصلت: ٣٣] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ آیت موذنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے : : اس شخص سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور اچھے کام کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
حدیث نمبر: 2368
٢٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبيد اللَّه بن الوليد عن محمد (بن) (١) نافع عن عائشة قالت: لا أرى هذه الآية نزلت إلا في المؤذنين: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [فصلت: ٣٣] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ آیت موذنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے : : اس شخص سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور اچھے کام کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
حدیث نمبر: 2369
٢٣٦٩ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا أبو أسامة قال: حدثني الحسن بن الحكم قال: حدثني (يحيى) (٢) بن عباد (أبو) (٣) هبيرة عن شيخ عن أبي هريرة ⦗٤٨٦⦘ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المُؤذِّن يُغْفَرُ له (مَدَّ) (٤) صَوْتِهِ، ويصَدِّقُهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابسٍ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جہاں تک موذن کی آواز جاتی ہے ہر خشک و تر چیز اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 2370
٢٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا أبو (العنبس) (١) سعيد بن كثير عن أبيه عن أبي هريرة قال: ارفع صوتك بالأذان؛ فإنه يشهد لك كل شيء (سمعك) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اونچی آواز سے اذان دو ، کیونکہ تمہیں سننے والی ہر چیز تمہارے لیے گواہی دے گی۔
حدیث نمبر: 2371
٢٣٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن الأعمش عن مجاهد قال: المؤذن يشهد له كل رطب ويابس (سمعه) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ موذن کے لیے اسے سننے والی ہر خشک اور تر چیز گواہی دے گی۔
حدیث نمبر: 2372
٢٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي عن رجل عن ابن عمر أنه قال لرجل: (ما عملك) (١)؟ قال: الأذان، قال: نعم العمل! (عملك) (٢) يشهد لك كل شيء سمعك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے پوچھا کہ تمہارا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا اذان دینا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارا کام تو بہت اچھا ہے، تمہیں سننے والی ہر چیز تمہارے لیے گواہی دے گی۔