کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر موذن نے فجر کی اذان طلوع صبح سے پہلے دے دی تو اعادہ اذان ہوگا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2327
٢٣٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن أشعث عن الحسن قال: أذن بلال بليل فأمره النبي ﷺ أن ينادي: (نَامَ العْبَدُ) (١)، فرجع فنادى: (نام العبد) (٢) وهو يقول: ليت بلالًا لم تده أمه، وابتل من نضح دم جبينه، قال: وبلغنا أنه أمره أن يعيد الأذان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک مرتبہ رات کو اذان دے دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کریں کہ بندہ سو گیا ! وہ واپس گئے اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا۔ ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے : کاش بلال کو اس کی ماں نے جنا ہی نہ ہوتا اور کاش خون سے اس کی پیشانی تر ہوچکی ہوتی۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان کے اعادے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2328
٢٣٢٨ - حدثنا وكيع عن ابن أبي رواد عن نافع: أن مؤذنا لعمر يقال له: (مسروح) (١) أذن قبل الفجر فأمره عمر أن يعيد (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک مؤذن تھا جس کا نام مسروح تھا۔ انہوں نے فجر سے پہلے اذان دے دی تو حضرت عمر نے انہیں دوبارہ اذان دینے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 2329
٢٣٢٩ - حدثنا حسين بن علي (١) عن أبي موسى (٢) قال: كان الحسن إذا ذكره (عنده) (٣) هؤلاء الذين يؤذنون بليل قال: (يقول) (٤): علوج فراغ ⦗٤٧٧⦘ (لا يصلون إلا بإقامة) (٥) لو أدركهم عمر بن الخطاب (لأوجعهم) (٦) (ضربا) (٧) أو لأوجع رؤوسهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ حسن کے سامنے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو رات میں فجر کی اذان دے دیتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہ عجم کے کافر اور فارغ لوگ ہیں وہ صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ اگر حضرت عمر کو ان کے بارے میں علم ہوجاتا تو انہیں مارتے یا ان کے سر پر مارتے۔