کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مسجد میں دوسری بار اذان اور اقامت نہیں کہیں گے ، لوگوں کی اقامت ان کے لیے کافی ہے
حدیث نمبر: 2322
٢٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن يزيد عن ابن أبي ليلى: أنه (مسألة) (١) رجل قال: دخلت المسجد وقد صلى أهله أؤذن؟ قال: قد كفيت ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن ابی لیلیٰ سے سوال کیا کہ اگر میں مسجد میں داخل ہوں اور لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو کیا میں اذان دوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کی اذان و اقامت تمہارے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 2323
٢٣٢٣ - حدثنا ابن عليه عن يونس عن الحسن في رجل ينتهي إلى المسجد وقد صُلِّي فيه قال: لا يؤذن ولا يقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسجد میں جائے اور نماز ہوچکی ہو تو وہ اذان اور اقامت نہیں کہے گا۔
حدیث نمبر: 2324
٢٣٢٤ - حدثنا جرير (عن) (١) عبد اللَّه بن يزيد قال: دخلت مع إبراهيم مسجد محارب فأمنَّي، ولم يؤذن ولم يقم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابراہیم کے ساتھ محارب کی مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے میری امامت کی اور نہ اذان دی اور نہ ہی اقامت کہی۔
حدیث نمبر: 2325
٢٣٢٥ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة: أن رجلًا جاء إلى المسجد (وقد) (١) صلوا، فذهب يقيم، فقال (له) (٢) عروة: مه! فإنا قد أقمنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں آیا تو لوگ نماز پڑھ چکے تھے۔ وہ اقامت کہنے لگا تو حضرت عروہ نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، ہم اقامت کہہ چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 2326
٢٣٢٦ - حدثنا وكيع (عن إسرائيل) (١) عن جابر عن عامر ومجاهد وعكرمة قالوا: إذا دخل المسجد وقد صُلّيَ فيه فلا يؤذن ولا يقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر، حضرت مجاہد اور حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو اور اس میں نماز ہوچکی ہو تو نہ اذان کہے نہ اقامت کہے۔