کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے اس بات کی رخصت دی ہے کہ مؤذن دوران اذان گفتگو کر سکتا
حدیث نمبر: 2217
٢٢١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن طلحة عن أبي صخرة جامع بن شداد عن موسى بن عبد اللَّه بن يزيد: أن سليمان بن صرد -وكانت له ⦗٤٥٤⦘ صحبة- كان يؤذن في العسكر، (وكان) (١) يأمر غلامه بالحاجة في أذانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن صرد ایک صحابی تھے، وہ لشکر میں اذان دیا کرتے تھے اور اذان کے دوران اپنے غلام کو کسی کام کا حکم بھی دے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 2218
٢٢١٨ - حدثنا ابن عليه قال: سألت يونس عن الكلام في الأذان والإقامة فقال: حدثني عبيد اللَّه بن (غلاب) (١) عن الحسن: أنه لم يكن يرى بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ کہتے ہیں کہ میں نے یونس سے اذان اور اقامت کے دوران بات کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن غلّاب نے مجھ سے بیان کیا ہے حسن اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2219
٢٢١٩ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن وحجاج (عن) (١) عطاء: أنهما كانا لا يريان بأسًا أن يتكلم المؤذن في أذانه.
مولانا محمد اویس سرور
حجاج اور عطاء اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ مؤذن اذان میں بات کرے۔
حدیث نمبر: 2220
٢٢٢٠ - حدثنا (عباد) (١) (عن) (٢) سعيد بن أبي عروبة قال: كان قتادة لا يرى بذلك بأسًا، وربما فعله فتكلم في أذانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی عروبہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ دورانِ اذان گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے بلکہ بعض اوقات اذان میں بات کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2221
٢٢٢١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء: أنه كان لا يرى بأسا أن يتكلم المؤذن في أذانه، ولا بين الأذان والإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ مؤذن اذان میں بات کرے اور نہ ہی اذان و اقامت کے درمیان بات کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2222
٢٢٢٢ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن حماد بن زيد عن هشام (بن عروة) (٢): أن أباه وإن يتكلم في أذانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اذان میں بات کیا کرتے تھے۔