حدیث نمبر: 2202
٢٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عباد بن عوام عن حجاج عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه أن بلالًا وذكره (العنزة) (١)، ثم أذن، ووضع أصبعيه في أذنيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجحیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے نیزہ گاڑا، پھر اس طرح اذان دی کہ اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھا۔
حدیث نمبر: 2203
٢٢٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين قال: إذا أذن المؤذن استقبل القبلة، ووضع أصبعيه في أذنيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مؤذن قبلہ کی طرف رخ کرے گا اور اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھے گا۔
حدیث نمبر: 2204
٢٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن (نسير) (١) قال: رأيت ابن عمر يؤذن على (بعيره) (٢)، قال سفيان: قلت له: رأيته يجعل أصبعيه في أذنيه؟ قال: لا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نسیر نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اونٹ پر بیٹھے اذان دیتے دیکھا ہے۔ حضرت سفیان نے نسیر سے پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں رکھی تھیں فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 2205
٢٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن عون عن محمد قال: كان الأذان أن يقول: اللَّه أكبر، اللَّه أكبر، ثم يجعل أصبعيه في أذنيه، وأول من ترك إحدى أصبعيه في أذنيه ابن الأصم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اذان یہ ہے کہ آدمی اللہ اکبر اللہ اکبر کہے پھر اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھے۔ سب سے پہلے ابن الاصم نے کانوں میں انگلیاں رکھنے کا عمل ترک کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2206
٢٢٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام عن ابن سيرين: أنه كان إذا أذن استقبل القبلة، فأرسل يديه، فإذا بلغ حي على الصلاة، حي على الفلاح أدخل أصبعيه في أذنيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین جب اذان دیتے تو ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دیتے پھر جب حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ پر پہنچتے تو اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کرلیتے۔