حدیث نمبر: 2195
٢١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن عوام (١) عن حجاج عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه: أن بلالًا ركز العنزة وأذن فرأيته يدور في أذانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک نیزہ گاڑا اور اذان دی۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اذان میں گھوم رہے تھے۔
حدیث نمبر: 2196
٢١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين قال: إذا أذن المؤذن استقبل القبلة، وكان يكره أن يستدير في المنارة، وكان الحسن يقول: استقبل (١) القبلة فإذا قال: حي (٢) على الصلاة دار، فإذا أراد أن يقول: اللَّه أكبر استقبل القبلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب مؤذن اذان دے تو قبلہ کی طرف رخ کرے۔ وہ اس بات کو ناپسند خیال کرتے تھے کہ مؤذن منارہ میں کھڑے ہو کر گھومے۔ حسن فرمایا کرتے تھے کہ مؤذن قبلہ کی طرف رخ کرے گا۔ جب وہ حی علی الصلاۃ کہے تو گھوم جائے اور جب اللہ اکبر کہنے لگے تو قبلہ کی طرف رخ کرلے۔
حدیث نمبر: 2197
٢١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الربيع عن الحسن وعن أبيه عن مغيرة عن إبراهيم قالا: المؤذن لا يزيل قدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ مؤذن اپنے قدم زمین سے نہیں اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 2198
٢١٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال: أتيت النبي ﷺ بالأبطح، فخرج بلال فأذن قال: فكأني انظر إليه يتبع فاه هاهنا، وهاهنا، يعني: يمينًا وشمالًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ میں مقام ابطح میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت بلال اذان دینے کے لیے آئے، انہوں نے اس طرح اذان دی کہ اپنے چہرے کو دائیں اور بائیں جانب گھمایا۔
حدیث نمبر: 2199
٢١٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم قال: يستقبل المؤذن بالأذان، والشهادة، والإقامة (القبلة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان، شہادت اور اقامت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرے گا۔
حدیث نمبر: 2200
٢٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن حلام بن صالح عن فائد بن بكر قال: خرجت مع حذيفة إلى المسجد صلاة الفجر، وابن (النباح) (١) مؤذن الوليد بن عقبة يؤذن وهو يقول: اللَّه أكبر، اللَّه أكبر، أشهد أن لا إله إلا اللَّه، يهوي بأذانه يمينًا وشمالًا، فقال: حذيفة من يرد اللَّه أن يجعل رزقه في صوته فعل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فائد بن بکیر کہتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف گیا۔ ولید بن عقبہ کے مؤذن حضرت ابن التیاح اذان دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اللَّہُ أَکْبَرُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وہ اذان دیتے ہوئے دائیں اور بائیں جانب مڑ رہے تھے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کا رزق اس کی آواز میں رکھنا چاہتا ہے رکھ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 2201
٢٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن مغيرة عن إبراهيم: أنه قال في المؤذن: (يَضمُّ) (١) رجليه، ويستقبل القبلة، فإذا (قال) (٢): (قد) (٣) قامت الصلاة، قال: بوجهه عن يمينه وشماله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم مؤذن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اپنے قدموں کو ملائے گا اور قبلہ کی طرف رخ کرے گا۔ جب قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہے تو چہرے کو دائیں اور بائیں جانب گھمائے گا۔