حدیث نمبر: 2064
٢٠٦٤ - حدثنا وكيع عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن طلق عن ابن الزبير عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية والسواك، والاستنشاق بالماء، (وقص الأظفار) (١)، (وغسل البراجم) (٢) ونتف الإبط، وحلق العانة، (وانتقاص الماء) (٣) ". - قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں۔ مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، پانی سے ناک صاف کرنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا اور پانی سے استنجا کرنا۔ راوی حضرت مصعب کہتے ہیں کہ میں دسویں خصلت بھول گیا اور غالباً وہ کلی کرنا ہوگی۔
حدیث نمبر: 2065
٢٠٦٥ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد: وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنے کرنا، زیر ناف بالوں کو استرے سے صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھیں کاٹنا۔
حدیث نمبر: 2066
٢٠٦٦ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سلمة ابن محمد عن عمار بن ياسر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الفطرة: المضمضة، والاستنشاق، والسواك، وقص الشارب، ونتف الإبط، وغسل البراجم، وتقليم الأظفار، [والانتضاح بالماء والختان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فطرت کی خصلتیں یہ ہیں، کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مسواک کرنا، مونچھیں تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، ناخن تراشنا، پانی سے استنجا کرنا اور ختنے کرنا۔
حدیث نمبر: 2067
٢٠٦٧ - حدثنا شريك عن ليث عن مجاهد قال: ست من فطرة إبراهيم: قص الشارب، والسواك، والفرق، وقص الأظفار] (١)، والاستنجاء، وحلق العانة، قال: ثلاثة في الرأس، وثلاثة في الجسد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ چھ چیزیں ابراہیم کی فطرت کا حصہ ہیں، مونچھیں تراشنا، مسواک کرنا، بالوں کی مانگ نکالنا، ناخن کاٹنا، استنجا کرنا اور زیر ناف بالوں کو مونڈھنا۔ تین کا تعلق سر سے اور تین کا تعلق باقی جسم سے ہے۔