کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: تیمم کرنے والا شخص اگر پانی کے پاس سے گذرے لیکن وضو کئے بغیر گذر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2044
٢٠٤٤ - حدثنا معاذ بن معاذ: أنا أشعث عن الحسن: أنه قال في متيمم مر بماء غير محتاج إلى الوضوء، فجاوزه، فحضرت الصلاة، وليس معه ماء. قال: يعيد التيمم لأن قدرته على الماء تنقض تيممه الأول.
مولانا محمد اویس سرور
حسن (اس شخص کے بارے میں جس نے تیمم کیا ہو اور وہ پانی کے پاس سے گذرے لیکن اسے وضو کی احتیاج نہ ہو چناچہ وہ بغیر وضو کئے گذر جائے، پھر نماز کا وقت آئے لیکن اس کے پاس پانی نہ ہو) فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ تیمم کرے، اس لئے کہ پانی پر قدرت پہلے تیمم کو توڑ دے گی۔